جیکب آباد میں لڑکی سے ایک سال تک مبینہ گینگ ریپ، نازیبا ویڈیوز بنا کر بلیک میل کرنے کا الزام، متاثرہ لڑکی کا ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ

جیکب آباد (نامہ نگار) جیکب آباد میں ایک لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر ایک سال تک اجتماعی زیادتی اور بلیک میلنگ کے سنگین الزام کا انکشاف ہوا ہے۔ متاثرہ لڑکی نے اپنے والدین کے ہمراہ ایس ایس پی ہاؤس کے باہر احتجاج کرتے ہوئے انصاف اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان آج متوقع، پیٹرول سستا جبکہ ڈیزل مہنگا ہونے کا امکان

تفصیلات کے مطابق جیکب آباد کے بولان محلہ کی رہائشی تسلیم کوہیری نے الزام عائد کیا ہے کہ اسے گزشتہ ایک سال کے دوران متعدد افراد نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس دوران اس کی نازیبا ویڈیوز بھی بنا کر اسے بلیک میل کیا جاتا رہا۔ متاثرہ لڑکی نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب وہ اپنا موبائل فون درست کروانے کے لیے ایک موبائل مارکیٹ گئی، جہاں ایک شخص نے اس کا نمبر حاصل کر لیا اور بعد ازاں مسلسل رابطہ کرنا شروع کر دیا۔

متاثرہ لڑکی کے مطابق بعد میں فراز نامی نوجوان اسے ورغلا کر اپنے ساتھ لے گیا اور سومرا گوٹھ کے قریب ایک ویران مقام پر لے جا کر مبینہ طور پر 8 سے 10 افراد نے اسلحے کے زور پر اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی اور اس کی ویڈیوز بھی ریکارڈ کی گئیں۔ لڑکی نے الزام عائد کیا کہ اس واقعے کے بعد بھی اسے مسلسل بلیک میل کر کے زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔

کراچی: میاں بیوی پر بہیمانہ تشدد کرنے والے 2 ملزمان مبینہ پولیس مقابلے کے بعد گرفتار

لڑکی نے مزید بتایا کہ ملزمان نے اسے دھمکی دی کہ اگر اس نے کسی کو واقعے سے آگاہ کیا تو اس کی نازیبا ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کر دی جائیں گی۔ متاثرہ لڑکی کے مطابق ملزمان نے یہ ویڈیوز اس کے منگیتر کو بھی بھیج دیں جس کے نتیجے میں اس کی منگنی ٹوٹ گئی اور اس کی ذاتی زندگی شدید متاثر ہوئی۔

واقعے کے خلاف متاثرہ لڑکی اور اس کے اہل خانہ نے ایس ایس پی جیکب آباد کے دفتر کے باہر احتجاج کیا اور اعلیٰ حکام سے فوری انصاف کا مطالبہ کیا۔ بعد ازاں متاثرہ لڑکی اور اس کے والدین نے ایس ایس پی جیکب آباد کیپٹن (ر) فیضان علی سے ملاقات کی اور تمام صورتحال سے آگاہ کیا۔

اس موقع پر ایس ایس پی جیکب آباد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ لڑکی کا بیان ریکارڈ کر لیا گیا ہے تاہم ابتدائی طور پر اس میں کچھ شکوک و شبہات بھی پائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاملے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جا رہی ہیں اور تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔

18 سالہ گھریلو ملازمہ عائشہ کی مبینہ گینگ ریپ اور اسقاطِ حمل کے بعد ہلاکت کا کیس ایک انتہائی پیچیدہ اور مشکوک موڑ پر پہنچ گیا

ایس ایس پی کے مطابق اگر الزامات درست ثابت ہوئے تو ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور کسی کو بھی قانون سے بچنے نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے، اس لیے تحقیقات احتیاط اور شواہد کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں تاکہ کسی بے گناہ شخص کو نقصان نہ پہنچے۔

پولیس حکام نے بتایا کہ کیس کی تفتیش میں جدید ٹیکنیکل ذرائع استعمال کیے جائیں گے جبکہ ضرورت پڑنے پر ایف آئی اے اور سائبر کرائم یونٹ کی مدد بھی حاصل کی جائے گی تاکہ ویڈیوز اور موبائل ڈیٹا کی تصدیق کی جا سکے۔علاقے میں اس واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ شہریوں اور سماجی حلقوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف اور فوری تحقیقات کی جائیں تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔پولیس کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی حتمی نتائج سامنے آئیں گے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں