کوئٹہ کا ہسپتال، بہادر ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب کا حملہ: وہ خود چل کر سٹریچر تک گئیں کہ کہیں کوئی انہیں ‘کمزور’ نہ کہہ دے!

سرجری کے دوران ڈاکٹر ماہ نور پر درندہ صفت شخص کا وحشیانہ حملہ؛ ہسپتالوں کی سیکیورٹی پر اٹھتے سوالات، آخر ملزم اتنا خطرناک ہتھیار لے کر اندر کیسے پہنچا؟

کوئٹہ (خصوصی رپورٹ) 9 جون 2026ء

کوئٹہ کے سول ہسپتال میں پیش آنے والے تیزاب حملے نے نہ صرف طبی برادری بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایک ہونہار اور بہادر لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر ہونے والا یہ وحشیانہ حملہ دراصل ان سماجی رکاوٹوں اور رویوں کا شاخسانہ ہے جو آج بھی ہماری خواتین کے راستے کی دیوار بنے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر ماہ نور جو سرجری جیسے مشکل شعبے میں اپنی مہارت اور خدمت کا جذبہ لے کر آئی تھیں، ایک ایسے شخص کی درندگی کا نشانہ بنیں جو ہسپتال میں ہی لفٹ آپریٹر کے طور پر کام کرتا تھا۔ اس واقعے نے ہسپتالوں کے اندر طبی عملے کی سیکیورٹی اور خواتین کے لیے کام کرنے کے محفوظ ماحول پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ڈاکٹر ماہ نور کے خاندانی پس منظر پر نظر ڈالیں تو ان کا تعلق بلوچستان کے ضلع دوکی سے ہے اور وہ ایک ایسے قدامت پسند معاشرتی ڈھانچے سے تعلق رکھتی تھیں جہاں خواتین کا گھر سے باہر نکل کر تعلیم حاصل کرنا اور ملازمت کرنا اب بھی ایک بڑا چیلنج سمجھا جاتا ہے۔ ان کی کزن اور دوست ڈاکٹر سعدیہ ناصر کے مطابق ماہ نور نے روایات کو توڑ کر ایک نئی مثال قائم کی تھی۔ ڈاکٹر سعدیہ نے بتایا کہ ماہ نور کے خاندان میں شروع میں شدید مخالفت تھی لیکن ان کی لگن اور حوصلے نے سب کو قائل کر لیا۔ ڈاکٹر ماہ نور کا اپنے کام کے لیے یہ جنون ہی تھا کہ انہوں نے بڑے اور آسان آپشنز کے باوجود سول ہسپتال کوئٹہ کو اپنی سرجری کی تربیت کے لیے منتخب کیا۔

اس حملے کے وقت ڈاکٹر ماہ نور کی بہادری کی کہانی ان کے بھائی فرحت اللہ ناصر نے بیان کی جو سن کر انسان حیران رہ جاتا ہے۔ جب انہیں شدید زخمی حالت میں کراچی کے ایئرپورٹ پر منتقل کیا گیا تو انہوں نے اپنی تکلیف کو ایک طرف رکھ کر کہا کہ وہ سٹریچر پر نہیں جائیں گی بلکہ خود چل کر جائیں گی تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ماہ نور ڈر گئی ہے۔ یہ جملہ ایک ایسی باہمت خاتون کی عکاسی کرتا ہے جس کے عزائم کو تیزاب سے جلایا تو جا سکتا ہے لیکن شکست نہیں دی جا سکتی۔ وہ اپنے گاؤں اور قبیلے کی دیگر لڑکیوں کے لیے ایک رول ماڈل بن کر ابھری تھیں اور ان کی بہادری نے خاندان کے لوگوں میں بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا شوق پیدا کیا تھا۔

واقعے کے وقت ایمرجنسی میں موجود ڈاکٹر نردوش رسانی کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ماہ نور نے شدید تکلیف میں بھی انہیں پہچان لیا تھا اور ان کا پہلا سوال اپنی زندگی کے بارے میں نہیں بلکہ اپنی صحتیابی کے بارے میں تھا۔ ڈاکٹر نردوش نے بتایا کہ ان کا چہرہ، آنکھیں، بازو اور ٹانگیں تیزاب سے بری طرح متاثر ہوئی تھیں، ان کے جسم کا تقریباً پندرہ سے بیس فیصد حصہ جھلس چکا تھا۔ اس کے باوجود ڈاکٹر ماہ نور کا بلڈ پریشر نارمل تھا اور ان کے اندر جینے کی جو تڑپ تھی وہ طبی عملے کے لیے بھی حیران کن تھی۔ انہیں فوری طور پر کراچی منتقل کیا گیا جہاں اب وہ آغا خان ہسپتال کے برن سینٹر میں زیرِ علاج ہیں۔

اس سارے سانحے میں ایک اور کردار عبدالرزاق خلجی کا ہے جو ہسپتال میں پیرا میڈیک کے طور پر کام کرتے ہیں۔ جب ملزم نے حملہ کیا تو ڈاکٹر ماہ نور مدد کے لیے ان کی طرف بھاگیں اور تکلیف کی شدت سے ان کو اپنی طرف کھینچا، جس کے نتیجے میں عبدالرزاق بھی تیزاب کے اثرات سے زخمی ہو گئے۔ عبدالرزاق نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اپنا ایپرن اتار کر ڈاکٹر ماہ نور پر ڈالا تاکہ ان کے کپڑوں پر پڑنے والے تیزاب کا اثر کم ہو سکے۔ بلوچستان حکومت نے عبدالرزاق کی اس انسانیت نواز خدمت کے اعتراف میں انہیں سول ایوارڈ دینے کا اعلان کیا ہے جو کہ بروقت اور درست فیصلہ ہے۔

پولیس کی تحقیقات کے مطابق ملزم ہمایوں شاہ نے اس حملے کا ارتکاب کیا اور واردات کے بعد فرار ہو گیا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزم کا سراغ بس اڈے کے قریب لگا اور جوابی فائرنگ میں ملزم ہلاک ہو گیا۔ محکمہ داخلہ بلوچستان کے حکام کا کہنا ہے کہ ملزم سے پستول اور گولیاں بھی برآمد ہوئی ہیں۔ تاہم اس واقعے کے محرکات تاحال ایک معمہ بنے ہوئے ہیں کیونکہ حکام کی جانب سے سرکاری سطح پر یہ نہیں بتایا گیا کہ آخر اس درندے نے یہ اقدام کیوں کیا۔ اس واقعے نے سیکیورٹی کے انتظامات پر بھی سوال اٹھائے ہیں کہ ایک ہسپتال کے اندر حملہ آور اتنا خطرناک ہتھیار لے کر کیسے داخل ہو گیا اور اپنا کام کر کے فرار ہو گیا۔

ایف آئی آر سول ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر عبدالہادی کاکڑ کی مدعیت میں درج کی گئی ہے جس میں سی سی ٹی وی فوٹیج کا تذکرہ موجود ہے۔ فوٹیج میں ملزم کو جیب سے کچھ نکال کر تیزی سے ڈاکٹر ماہ نور کی جانب بڑھتے ہوئے اور پھر فرار ہوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس ویڈیو میں عبدالرزاق خلجی کو بھی مدد کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے جس کی تصدیق ہسپتال انتظامیہ نے بھی کی ہے۔ یہ سی سی ٹی وی فوٹیج اس کیس میں ایک بہت بڑا ثبوت ہے لیکن اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ سیکیورٹی کے انتظامات کتنے کمزور تھے کہ ملزم اتنی آسانی سے واردات کر کے نکل گیا۔

اس واقعے پر کوئٹہ کے ینگ ڈاکٹرز نے شدید احتجاج کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انکوائری کے ذریعے واقعے کے پسِ پردہ حقائق کو سامنے لایا جائے۔ ڈاکٹروں کا یہ مطالبہ بالکل بجا ہے کہ اگر ہسپتال جیسے مقدس مقام پر ڈاکٹرز ہی محفوظ نہیں ہیں تو وہ مریضوں کو کیا تحفظ فراہم کریں گے؟ سوشل میڈیا پر بھی لوگ اس واقعے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور خاص طور پر تیزاب کی کھلے عام خرید و فروخت پر پابندی نہ ہونے کو اس واقعے کا ایک بڑا سبب قرار دیا جا رہا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ کوئی بھی شخص کسی بھی بہانے سے تیزاب خرید سکتا ہے اور اس کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھا جاتا، جو کہ ایک سنگین سماجی غفلت ہے۔

ڈاکٹر ماہ نور کے چچا نے بتایا ہے کہ ڈاکٹرز کے مطابق ان کی بینائی محفوظ ہے لیکن انہیں دھندلا نظر آنے کی شکایت ہے جو کہ چہرے پر موجود شدید سوجن کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔ ان کا علاج ایک طویل عمل ہے جس میں ایک سے ڈیڑھ ماہ ہسپتال میں گزرنا پڑ سکتا ہے اور متعدد سرجریز کی ضرورت ہوگی۔ ڈاکٹر ماہ نور اس وقت زندگی اور موت کی کشمکش سے گزر رہی ہیں، لیکن ان کی ہمت اور خاندان کا حوصلہ دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ وہ اس امتحان سے سرخرو ہو کر نکلیں گی۔ قوم کی دعائیں اس بہادر بیٹی کے ساتھ ہیں جو خود ایک ڈاکٹر ہو کر اب خود علاج کے مراحل سے گزر رہی ہے۔واقعہ کے بعد اب وقت آ گیا ہے کہ معاشرے میں خواتین کے خلاف پائے جانے والے اس نفرت انگیز رویے کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے۔ جب تک ہم اپنے گھروں اور اداروں میں خواتین کے لیے احترام اور تحفظ کا ماحول پیدا نہیں کریں گے، تب تک ایسی ڈاکٹر ماہ نور کسی نہ کسی درندے کا شکار بنتی رہیں گی۔ حکومت کو نہ صرف سیکیورٹی کے نظام کو بہتر بنانا ہوگا بلکہ تیزاب فروخت کرنے والے مافیا پر بھی کڑی نظر رکھنی ہوگی۔ ڈاکٹر ماہ نور پر ہونے والا یہ حملہ دراصل ان تمام خواتین پر حملہ ہے جو اپنی محنت اور ہمت سے معاشرے میں اپنا مقام بنانا چاہتی ہیں۔

کوئٹہ سول اسپتال میں ہولناک تیزاب گردی: خاتون ڈاکٹر پر حملہ کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں جہنم واصل، متاثرہ ڈاکٹر کراچی منتقل

اپنا تبصرہ لکھیں