خصوصی رپورٹ: عرشیہ عباسی۔

تیزاب گردی ہمارے معاشرے کا ایک نہایت سنگین اور افسوسناک مسئلہ ہے۔ یہ ایک ایسا ظالمانہ جرم ہے جس میں کسی شخص پر تیزاب پھینک کر اسے جسمانی اور ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔ اس جرم کے نتیجے میں متاثرہ فرد نہ صرف اپنی ظاہری شناخت کھو بیٹھتا ہے بلکہ اسے زندگی بھر علاج، تکلیف اور سماجی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔تیزاب گردی کے زیادہ تر واقعات ذاتی دشمنی، انتقام، گھریلو تنازعات اور خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات سے جڑے ہوتے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف قانوناً جرم ہے بلکہ اخلاقی اور انسانی اقدار کے بھی سراسر خلاف ہے۔حکومت نے اس جرم کی روک تھام کے لیے قوانین متعارف کرائے ہیں، تاہم ان قوانین پر مؤثر عمل درآمد اور تیزاب کی فروخت پر سخت نگرانی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام میں شعور بیدار کرنا بھی ضروری ہے تاکہ ایسے جرائم کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔میڈیا، تعلیمی اداروں اور سماجی تنظیموں کو مل کر اس مسئلے کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔ ایک مہذب معاشرے کی پہچان اس کے کمزور اور مظلوم افراد کے تحفظ میں ہے۔تیزاب گردی کا خاتمہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہمیں انصاف، احترام اور برداشت کے اصولوں کو فروغ دے کر ایک محفوظ اور پرامن معاشرہ تشکیل دینا ہوگا۔
کوئٹہ سانحہ: ایک بہادر ڈاکٹر پر وحشیانہ حملہ
تیزاب گردی کی ہولناکی کا تازہ ترین اور دلخراش ثبوت کوئٹہ کے سول ہسپتال میں پیش آنے والا واقعہ ہے، جس نے نہ صرف طبی برادری بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایک ہونہار اور بہادر لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر ہونے والا یہ وحشیانہ حملہ دراصل ان سماجی رکاوٹوں اور رویوں کا شاخسانہ ہے جو آج بھی ہماری خواتین کے راستے کی دیوار بنے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر ماہ نور جو سرجری جیسے مشکل شعبے میں اپنی مہارت اور خدمت کا جذبہ لے کر آئی تھیں، ایک ایسے شخص کی درندگی کا نشانہ بنیں جو ہسپتال میں ہی لفٹ آپریٹر کے طور پر کام کرتا تھا۔ اس واقعے نے ہسپتالوں کے اندر طبی عملے کی سیکیورٹی اور خواتین کے لیے کام کرنے کے محفوظ ماحول پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ڈاکٹر ماہ نور کا تعلق بلوچستان کے ضلع دوکی کے ایک ایسے قدامت پسند معاشرتی ڈھانچے سے تھا جہاں خواتین کا تعلیم اور ملازمت کے لیے گھر سے نکلنا ایک چیلنج سمجھا جاتا ہے۔ ان کی کزن ڈاکٹر سعدیہ ناصر کے مطابق، ماہ نور نے روایات کو توڑ کر ایک نئی مثال قائم کی تھی۔ وہ بڑے اور آسان آپشنز کے باوجود سول ہسپتال کوئٹہ میں اپنی سرجری کی تربیت کر رہی تھیں۔ ان کے بھائی فرحت اللہ ناصر کے مطابق، شدید زخمی حالت میں بھی ان کا عزم یہ تھا کہ وہ خود چل کر جائیں گی تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ماہ نور ڈر گئی ہیں۔ یہ جملہ اس باہمت خاتون کی عکاسی کرتا ہے جن کے عزائم کو تیزاب سے جلایا تو جا سکتا ہے مگر شکست نہیں دی جا سکتی۔
اس سانحے میں عبدالرزاق خلجی نامی پیرا میڈیک کا کردار انسانیت کی زندہ مثال ہے، جنہوں نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اپنا ایپرن ڈاکٹر ماہ نور پر ڈالا تاکہ تیزاب کا اثر کم ہو سکے۔ بلوچستان حکومت نے ان کی اس انسانیت نواز خدمت کے اعتراف میں انہیں سول ایوارڈ دینے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب، پولیس کے مطابق حملہ آور ہمایوں شاہ جوابی فائرنگ میں ہلاک ہو چکا ہے، تاہم اس درندے کے محرکات تاحال ایک معمہ بنے ہوئے ہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج نے ہسپتال کے کمزور سیکیورٹی انتظامات کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔
اجتماعی ذمہ داری اور تدارک
حکومت نے اس جرم کی روک تھام کے لیے قوانین متعارف کرائے ہیں، تاہم ان قوانین پر مؤثر عمل درآمد اور تیزاب کی کھلے عام فروخت پر سخت نگرانی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کوئٹہ واقعہ کے بعد سوشل میڈیا پر بھی لوگ سراپا احتجاج ہیں کہ جب تک تیزاب کی خرید و فروخت کا ریکارڈ نہیں رکھا جائے گا، ایسی درندگی جاری رہے گی۔
میڈیا، تعلیمی اداروں اور سماجی تنظیموں کو مل کر اس مسئلے کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔ ایک مہذب معاشرے کی پہچان اس کے کمزور اور مظلوم افراد کے تحفظ میں ہے۔ ڈاکٹر ماہ نور پر ہونے والا یہ حملہ دراصل ان تمام خواتین پر حملہ ہے جو اپنی محنت سے معاشرے میں مقام بنانا چاہتی ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے اداروں میں خواتین کے لیے احترام اور تحفظ کا ماحول پیدا کریں، بصورتِ دیگر ڈاکٹر ماہ نور جیسی باصلاحیت بیٹیاں کسی نہ کسی درندے کا شکار بنتی رہیں گی۔تیزاب گردی کا خاتمہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہمیں انصاف، احترام اور برداشت کے اصولوں کو فروغ دے کر ایک محفوظ اور پرامن معاشرہ تشکیل دینا ہوگا۔