
کراچی کے ضلع ملیر، بالخصوص قائدآباد، شرافی گوٹھ اور گردونواح کے علاقوں میں منشیات کے مکروہ دھندے کے حوالے سے ایک انتہائی تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے۔ حساس ادارے کی خفیہ رپورٹ کے مطابق ان علاقوں میں “الممتاز” نامی اعلیٰ کوالٹی کی منشیات کھلے عام فروخت کی جا رہی ہیں، جس کے پیچھے ایک منظم اور بااثر نیٹ ورک کارفرما ہے۔

منشیات فروشی کا نیٹ ورک اور آپریشنل مرکز
حساس ادارے کی رپورٹ کے مطابق منشیات فروشی کا یہ منظم نیٹ ورک شرافی گوٹھ تھانے کی حدود میں واقع فیوچر موڑ کے قریب ‘نیازی محلہ’ سے آپریٹ کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں 25 سے زائد مشتبہ افراد کی فہرست مرتب کر کے ان کی نقل و حرکت اور سرگرمیوں کی تفصیلات پولیس کو فراہم کی گئی ہیں تاکہ اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔
پولیس کی مزاحمت اور ملوث اہلکاروں کا کردار
ذرائع کے مطابق اس نیٹ ورک کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب بھی پولیس ان کے خلاف کارروائی کی کوشش کرتی ہے، اسے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایک ٹارگٹڈ کارروائی کے دوران بھی پولیس اور منشیات فروشوں کے درمیان سخت تصادم ہوا، جس کے بعد دو الگ مقدمات درج کیے گئے۔
تحقیقات کے دوران ایک انتہائی سنگین انکشاف ہوا ہے کہ اس نیٹ ورک میں پولیس کے اپنے اہلکار ملوث ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں ابراہیم حیدری تھانے میں تعینات ایک ہیڈ کانسٹیبل بھی شامل ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس ہیڈ کانسٹیبل کا والد عالم خان نیازی ہے، جبکہ اس نیٹ ورک کا مرکزی کردار ‘رضوان پسرانی نیازی’ نامی شخص کو قرار دیا گیا ہے۔ مزید برآں، حساس ادارے کی رپورٹ میں محکمہ پولیس کے کچھ اہلکاروں اور ایک حساس ادارے سے ڈسمس شدہ ملازمین کے بھی اس دھندے میں ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔

اعلیٰ حکام کا سخت ایکشن
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقدمات میں اب تک دو ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں جبکہ متعدد مفرور ہیں۔ پولیس نے اس نیٹ ورک کے مکمل خاتمے کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ اعلیٰ حکام نے واضح کیا ہے کہ ملیر میں منشیات کے اس ناسور کے خلاف بھرپور کارروائیاں کی جائیں گی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں میں کسی بھی قسم کی مزاحمت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔مذکورہ مقدمات کی تفتیش تیزی سے جاری ہے اور پولیس کا کہنا ہے کہ جلد مزید اہم گرفتاریاں متوقع ہیں، جس سے اس نیٹ ورک کی کڑیاں مزید کھل کر سامنے آئیں گی۔
