Protesting parents and medical reports highlighting HIV negligence case at Velika Hospital

ولیکا اسپتال کی ہولناک غفلت: ایک ہی گھر کے چاروں معصوم بچے ایچ آئی وی (HIV) کا شکار، متاثرہ بچوں کی مجموعی تعداد 81 تک پہنچ گئی

کراچی (ویب ڈیسک) — 14 جولائی 2026

کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں مبینہ طبی غفلت کے نتیجے میں پھیلنے والے ایچ آئی وی (HIV) آؤٹ بریک نے ایک اور معصوم زندگی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اسپتال انتظامیہ کی مجرمانہ لاپروائی کے باعث ضیا کالونی کے رہائشی آفتاب خان کے گھر میں قیامت ٹوٹ پڑی ہے، جہاں ایک ہی خاندان کے چوتھے بچے میں بھی ایچ آئی وی وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے۔ تازہ ترین کیس سامنے آنے کے بعد ولیکا اسپتال کی غفلت سے متاثر ہونے والے بچوں کی مجموعی تعداد خطرناک حد تک بڑھ کر 81 ہو چکی ہے، جس نے پورے علاقے میں شدید تشویش اور خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔

متاثرہ بچوں کے والد آفتاب خان نے انتہائی دکھی دل کے ساتھ بتایا کہ دو روز قبل ان کی 9 سالہ بیٹی کی رپورٹ مثبت آئی تھی، جبکہ اس سے پہلے ان کے 12 سالہ اور 3 سالہ دو بیٹوں میں بھی وائرس کی تصدیق ہو چکی تھی۔ اب ان کے 10 سالہ بیٹے کی رپورٹ بھی مثبت آ گئی ہے، جس کے بعد ان کے گھر کے چاروں بچے اس موذی مرض کا شکار ہو چکے ہیں۔ والد کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بچوں کو معمولی بیماری کے علاج کے لیے ولیکا اسپتال لے کر گئے تھے، لیکن وہاں کے عملے کی مبینہ غفلت اور آلودہ سرنجوں یا آلات کے استعمال نے ان کے بچوں کو عمر بھر کا روگ لگا دیا ہے۔ ایک ایک کر کے تمام بچوں کے بیمار ہونے سے پورا خاندان شدید ترین ذہنی اذیت اور صدمے سے دوچار ہے۔

آفتاب خان نے اسپتال انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ حکومت کی جانب سے جن ڈاکٹروں اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) کو معطل کیا گیا تھا، وہ اب بھی اسپتال کی تمام مراعات عیش سے استعمال کر رہے ہیں اور ڈاکٹرز میس میں مقیم ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنے بڑے سانحے کے بعد بھی اگر معطل افسران کو وی آئی پی سہولتیں حاصل ہیں تو ایسی معطلی کا کیا فائدہ؟ متاثرہ والدین کا کہنا ہے کہ اسپتال کا عملہ اب بھی ان کے ساتھ ناروا سلوک اختیار کیے ہوئے ہے؛ علاج اور ٹیسٹوں کے حوالے سے کوئی معلومات فراہم نہیں کی جاتیں اور انہیں اسپتال اور سی ڈی سی (CDC) کے چکر کٹوا کر ذلیل کیا جا رہا ہے۔ متاثرہ خاندانوں نے حکومتِ سندھ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فوکل پرسن سعادت میمن کو فوری تبدیل کر کے کسی بااختیار اور ہمدرد افسر کو تعینات کیا جائے اور واقعے کے ذمہ داران کو عبرت ناک سزا دی جائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں