تہران (ویب ڈیسک) — 14 جولائی 2026
آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں کے بعد پیدا ہونے والا کشیدہ بحران اب ایک نئے اور انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے باضابطہ طور پر یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز میں دو بڑے سپر آئل ٹینکروں کو نشانہ بنا کر انہیں مکمل طور پر ناکارہ اور غیر فعال کر دیا ہے۔ ایرانی عسکری حکام کی جانب سے جاری کردہ اس سنسنی خیز اعتراف کے بعد خطے میں فوجی کشیدگی اور تجارتی جہازوں کی سلامتی کے حوالے سے عالمی سطح پر تشویش کی ایک شدید لہر دوڑ گئی ہے، کیونکہ یہ آبی گزرگاہ دنیا بھر میں خام تیل کی نقل و حمل کے لیے ریڑھ کی ہڈی مانی جاتی ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب کا مؤقف ہے کہ یہ حملہ امریکی اشتعال انگیزی کے جواب میں کیا گیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ امریکہ نے ایک بار پھر خطے کا امن تباہ کرنے کے لیے تجارتی جہازوں کو بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر اکسایا۔ بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ دونوں سپر آئل ٹینکروں نے امریکی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اپنے نیویگیشن اور ٹریکنگ سسٹمز بند کر دیے تھے، اور سیکورٹی کنٹرول سینٹر کی جانب سے بار بار ملنے والی انتباہی وارننگز کو مکمل نظر انداز کر کے مبینہ طور پر بارودی سرنگوں والے حساس ترین علاقے میں گھسنے کی کوشش کی، جس کے بعد ان پر کارروائی کی گئی۔ تاہم ایران نے اس حملے کے نتیجے میں ہونے والے جانی یا مالی نقصان کی تفصیلات دینے سے گریز کیا ہے۔
دوسری جانب، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے پہلے ہی باضابطہ تصدیق کر دی ہے کہ اس کے سمندری حدود کے قریب البحیہ اور مومباسا بی نامی دو جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس میں عملے کا ایک بھارتی رکن ہلاک اور آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اماراتی حکام نے اس مجرمانہ کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس کی براہِ راست ذمہ داری تہران پر عائد کی ہے۔ دفاعی اور معاشی ماہرین کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ براہِ راست محاذ آرائی عالمی توانائی کی منڈیوں اور خام تیل کی سپلائی لائن کو شدید متاثر کر سکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری نے فریقین سے فوری طور پر کشیدگی کم کرنے اور تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
