Working women facing social and professional challenges at work environment in Pakistan

پاکستان میں ملازمت پیشہ خواتین اور ہراسانی: ایک تلخ حقیقت اور اس کے اسباب !

Report: Arshiya Abbasi

پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران خواتین میں تعلیم کے رجحان اور معاشی خود مختاری کی خواہش میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ آج زندگی کا کوئی ایسا شعبہ نہیں ہے جہاں خواتین اپنی صلاحیتوں کا لوہا نہ منوا رہی ہوں—خواہ وہ تعلیم کا میدان ہو، طب، بینکنگ، آئی ٹی یا کارپوریٹ سیکٹر۔ تاہم، اس روشن تصویر کا ایک انتہائی تاریک اور تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ کام کی جگہوں پر خواتین کے لیے سازگار اور محفوظ ماحول اب بھی ایک خواب بنا ہوا ہے۔ حالیہ سروے اور رپورٹس کے مطابق، پاکستان میں ملازمت کرنے والی تقریبًا 50 فیصد خواتین (یعنی ہر دو میں سے ایک خاتون) کو کام کی جگہ پر کسی نہ کسی شکل میں ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہ ہراسانی محض جسمانی نوعیت کی نہیں ہوتی، بلکہ اس میں نفسیاتی، زبانی، اشاروں کنایوں اور جنسی نوعیت کی ہراسانی شامل ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی بنا پر یہ سنگین مسئلہ ہمارے معاشرے میں اس حد تک جڑ پکڑ چکا ہے؟ اس کے پیچھے کئی سماجی، نفسیاتی، اور ادارہ جاتی عوامل کارفرما ہیں۔

1. مردانہ بالادستی کا نظام اور سماجی رویے (Patriarchal Mindset)
پاکستانی معاشرے میں صدیوں سے مردانہ بالادستی کا نظام رائج ہے، جہاں عوامی مقامات اور کام کی جگہوں کو بنیادی طور پر مردوں کا دائرہ اختیار سمجھا جاتا ہے۔ جب ایک خاتون معاشی مجبوری یا اپنے شوق کے تحت اس دائرے میں قدم رکھتی ہے، تو قدامت پسند ذہنیت کے حامل مرد اسے ایک ‘مداخلت کار’ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ کئی مردوں کے نزدیک کام کرنے والی خواتین اپنے خاندانی تحفظ سے باہر ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے وہ انہیں آسان ہدف سمجھ لیتے ہیں۔ یہ سوچ کہ “عورت کا اصل مقام گھر ہے” مردوں کو کام کی جگہ پر خواتین کے ساتھ غیر مناسب رویہ اپنانے پر اکساتی ہے، جہاں وہ طاقت کے توازن کو اپنے حق میں رکھنے کے لیے ہراسانی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

2. طاقت اور اختیارات کا غلط استعمال (Power Dynamics)
کام کی جگہوں پر ہراسانی کا ایک بڑا سبب اختیارات کا غلط استعمال ہے۔ زیادہ تر اداروں میں اعلیٰ عہدوں، جیسے کہ مینیجرز، ڈائریکٹرز اور سپروائزرز کی سیٹوں پر مرد براجمان ہیں۔ جب کوئی اعلیٰ عہدے دار کسی جونیئر خاتون ملازم پر اثر انداز ہونا چاہتا ہے، تو وہ ترقی، تنخواہ میں اضافے، یا ملازمت کے تحفظ کو شرط بنا کر اسے ہراساں کرتا ہے۔ خواتین، جو اکثر اپنے خاندان کی کفالت کر رہی ہوتی ہیں یا جنہیں ملازمت کی سخت ضرورت ہوتی ہے، نوکری چھٹ جانے یا بدنامی کے ڈر سے اس بلیک میلنگ کا شکار ہو جاتی ہیں اور خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔

3. قوانین کی کمزور گرفت اور نفاذ کا فقدان
اگرچہ پاکستان میں “کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف تحفظ کا ایکٹ 2010” موجود ہے، لیکن اس کا نفاذ انتہائی کمزور ہے۔ قانون کے مطابق ہر چھوٹے بڑے ادارے میں ایک اندرونی شکایات کمیٹی (Inquiry Committee) کا ہونا لازمی ہے، لیکن حقیقت میں بہت سے نجی اور سرکاری اداروں میں ایسی کوئی فعال کمیٹی موجود ہی نہیں ہے۔ جہاں کمیٹیاں موجود بھی ہیں، وہاں اکثر وہ بااثر مرد ملازمین کی پشت پناہی کرتی ہیں، جس کی وجہ سے متاثرہ خاتون کو انصاف ملنے کے بجائے مزید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ محتسب (Ombudsman) کے دفاتر تک رسائی بھی عام خواتین کے لیے قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے مشکل ثابت ہوتی ہے۔

4. بدنامی کا خوف اور سماجی دباؤ (Victim Blaming)
ہمارے معاشرے کا ایک اور المیہ ‘وکٹم بلیمینگ’ یعنی متاثرہ شخص کو ہی قصوروار ٹھہرانا ہے۔ جب کوئی خاتون ہراسانی کی شکایت کرتی ہے، تو معاشرہ اس کے کپڑوں، اس کے بات کرنے کے انداز، اور اس کے کردار پر سوال اٹھانا شروع کر دیتا ہے۔ “تم ہی نے کوئی موقع دیا ہوگا” یا “مرد تو ایسے ہی ہوتے ہیں، تمہیں احتیاط کرنی چاہیے تھی” جیسے جملے عام سننے کو ملتے ہیں۔ اس سماجی بدنامی، خاندان کے دباؤ اور شادی کے امکانات متاثر ہونے کے خوف سے 90 فیصد سے زائد خواتین خاموشی سے ظلم برداشت کرتی ہیں یا نوکری چھوڑ دیتی ہیں۔ یہی خاموشی مجرموں کے حوصلے مزید بلند کرتی ہے۔

5. شعور اور آگاہی کی کمی
بہت سی خواتین، خاص طور پر جو کم آمدنی والے شعبوں (جیسے فیکٹریوں، پارلرز، یا گھریلو ملازمہ کے طور پر) میں کام کرتی ہیں، وہ ہراسانی کی قانونی تعریف سے واقف ہی نہیں ہوتیں۔ انہیں یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کسی مرد کا ان کو گھورنا، ان پر جملے کسنا، یا ان کی مرضی کے بغیر ان کے قریب آنا قانوناً جرم ہے۔ آگاہی کی اس کمی کے باعث وہ یہ سمجھتی ہیں کہ شاید یہ سب نوکری کا ایک لازمی حصہ ہے جسے انہیں برداشت کرنا ہی پڑے گا۔

اثرات اور آگے کا راستہ
کام کی جگہ پر ہراسانی نہ صرف خواتین کی ذہنی اور جسمانی صحت کو بری طرح متاثر کرتی ہے، بلکہ یہ ملک کی معاشی ترقی میں بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ جب آدھی آبادی خوف کے سائے میں جئے گی، تو وہ اپنی بھرپور صلاحیتوں کا استعمال کیسے کر سکے گی؟

اس صورتحال کو بدلنے کے لیے درج ذیل اقدامات ناگزیر ہیں:
قوانین پر سختی سے عمل درآمد:حکومت کو چاہیے کہ وہ ہر ادارے کو ہراسانی کے خلاف پالیسی واضح کرنے اور اندرونی کمیٹیاں بنانے پر مجبور کرے، اور ایسا نہ کرنے والے اداروں پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں۔
شعوری مہم:* اداروں میں مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے تربیتی سیشنز (Gender Sensitization Workshops) کا انعقاد کیا جائے تاکہ وہ پیشہ ورانہ حدود کو سمجھ سکیں۔
سماجی سوچ میں تبدیلی: میڈیا اور تعلیمی اداروں کے ذریعے مردوں کو خواتین کا احترام کرنے اور انہیں برابر کا شہری تسلیم کرنے کی تربیت دی جانی چاہیے۔

پاکستان کی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں باہر نکل کر محفوظ ماحول میں کام نہیں کر سکیں گی۔ ہراسانی کی اس 50 فیصد کی شرح کو صفر پر لانا صرف خواتین کا مسئلہ نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔

2 تبصرے ”پاکستان میں ملازمت پیشہ خواتین اور ہراسانی: ایک تلخ حقیقت اور اس کے اسباب !

  1. کام کی جگہ پر عزت اور مساوی مواقع ہر فرد کا بنیادی حق ہیں۔ اس حوالے سے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔
    Nice article

اپنا تبصرہ لکھیں