Houthi Attack Saudi Oil Tankers Red Sea

بحیرہ احمر میں شدید کشیدگی: حوثیوں کا سعودی عرب کے 2 آئل ٹینکروں پر حملے اور ناکہ بندی کا دعویٰ!

بحیرہ احمر کی اہم بین الاقوامی بحری شاہراہ پر فوجی کشیدگی ایک بار پھر خطرناک ترین سطح پر پہنچ گئی ہے جہاں یمن کی حوثی تحریک انصاراللہ نے سعودی عرب کے دو بڑے آئل ٹینکروں کو کامیابی سے نشانہ بنانے کا باضابطہ دعویٰ کیا ہے۔ حوثی ترجمان کے مطابق یہ کارروائی ان کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف عائد کردہ بحری ناکہ بندی کی سنگین خلاف ورزی کے ردِعمل میں کی گئی ہے، کیونکہ متعلقہ جہاز بار بار دی جانے والی انتباہی ہدایات کے باوجود ممنوعہ سمندری حدود سے گزر رہے تھے۔ انصاراللہ کا مؤقف ہے کہ یمن پر مسلسل قائم محاصرے اور صنعاء ایئرپورٹ کی بندش کا جواب دینے کے لیے سعودی بحری جہازوں اور ان سے جڑی تجارتی ترسیلات کو نشانہ بنانا ان کی دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ ہے اور محاصرہ ختم نہ ہونے کی صورت میں ان اقدامات کا دائرہ کار مزید بڑھایا جائے گا۔

دوسری جانب، سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اپنے ایک آئل ٹینکر پر بحیرہ احمر میں ہونے والے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ میزائل لگنے کے نتیجے میں جہاز کے اگلے حصے میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ اسی دوران برطانوی میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی (یو کے ایم ٹی او) نے بھی رپورٹ کیا کہ سعودی ساحلی شہر الشقیق سے تقریباً 70 ناٹیکل میل کے فاصلے پر ایک تجارتی ٹینکر میں دھماکے کے بعد آگ لگی۔ جہاز کے کپتان کے ابتدائی بیان کے مطابق آگ کی وجہ سیدھا میزائل لگنا تھا، تاہم خوش قسمتی سے جہاز کا تمام عملہ مکمل طور پر محفوظ رہا، کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی اور نہ ہی سمندری ماحول کو تیل کے رسنے سے کوئی بڑا خطرہ لاحق ہوا۔

عسکری اور اقتصادی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یمن پر پابندیوں کے جواب میں حوثیوں کا یہ نیا بحری ناکہ بندی کا اعلان اور آئل ٹینکرز کو براہِ راست نشانہ بنانا عالمی انرجی مارکیٹ اور بحری تجارت کے لیے ایک نیا زلزلہ ثابت ہو سکتا ہے۔ بحیرہ احمر سے گزرنے والی عالمی ایندھن اور مال بردار جہاز رانی پر پیدا ہونے والے اس دباؤ کے باعث نہ صرف تیل کی عالمی قیمتوں میں شدید اضافے کا خدشہ ہے بلکہ پوری خلیجی ریاستوں کی سیکیورٹی پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اگر ان سفارتی اور ملٹری تنازعات کو فوری طور پر مذاکرات کے ذریعے نہ روکا گیا تو خطے میں ایک نیا اور وسیع معاشی بحران جنم لے سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں