سرحدوں سے بالاتر سفارتکاری: پاکستان، ملائیشیا اور عراق کے دیرپا روابط کی خوبصورت مثال

سفارتکاری صرف معاہدوں، دستاویزات اور دفتری نشستوں تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ یہ مختلف اقوام، تہذیبوں اور انسانوں کے درمیان محبت، احترام اور باہمی تعاون کے پل تعمیر کرنے کا نام ہے۔ اس حقیقت کی ایک درخشندہ مثال حال ہی میں کراچی میں اس وقت دیکھنے میں آئی جب ایتھوپیا کے اعزازی قونصل خانے کی جانب سے ملائیشیا کے سبکدوش ہونے والے قونصل جنرل ہز ایکسیلینسی ہرمن ہاردیاناتا احمد اور عراق کے سبکدوش ہونے والے قونصل جنرل ڈاکٹر ماہر ماجد جیجان کے اعزاز میں ایک پروقار اور شاندار الوداعی عشائیے کا اہتمام کیا گیا۔

یہ تقریب نہ صرف دو معزز سفارت کاروں کی خدمات کا اعتراف تھی بلکہ اس نے عالمی سطح پر یکجہتی، بین الاقوامی دوستی اور “سرحدوں سے بالاتر سفارتکاری” کے جذبے کو بھی اجاگر کیا۔

سفارتی خدمات کا والہانہ اعتراف
تقریب کی میزبانی کرتے ہوئے ایتھوپیا کے اعزازی قونصل ابراہیم تواب نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگرچہ سفارتی ذمہ داریاں وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی ہیں اور سفارت کار ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے ہیں، لیکن جو رشتے محبت اور باہمی احترام پر قائم ہوتے ہیں وہ ہمیشہ قائم رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا:

“دونوں سفارت کار اگرچہ پاکستان سے رخصت ہو رہے ہیں، لیکن اپنی بہترین خدمات، دوستانہ رویے اور شاندار کارکردگی کی وجہ سے وہ ہمیشہ اپنے دوستوں اور ساتھیوں کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں قونصل جنرلز نے پاکستان کے ساتھ اپنے اپنے ممالک کے تعلقات کو نچلی سطح سے لے کر اعلیٰ سفارتی سطح تک مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

یادگار سفارتی دور اور پاکستانی مہمان نوازی
اپنے الوداعی تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے ملائیشیا کے قونصل جنرل ہز ایکسیلینسی ہرمن ہاردیاناتا احمد اور عراق کے قونصل جنرل ڈاکٹر ماہر ماجد جیجان نے ایتھوپیا کے اعزازی قونصل خانہ اور بالخصوص ابراہیم تواب کی پرخلوص میزبانی پر گہرے شکریے کا اظہار کیا۔

دونوں سفارت کاروں کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ان کا گزرے ہوا وقت انتہائی خوشگوار، یادگار اور پیشہ ورانہ اعتبار سے کامیاب رہا۔ انہوں نے پاکستانی قوم کی روایتی مہمان نوازی، گرم جوشی اور محبت کو سراہتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ وہ یہاں سے قائم ہونے والے تعلقات اور خوبصورت یادوں کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھیں گے۔

وزارتِ خارجہ اور سفارتی برادری کا خراجِ تحسین
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزارتِ خارجہ کے کراچی رابطہ دفتر کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے دونوں سبکدوش ہونے والے سفارت کاروں کی سفارتی بصیرت اور پاکستان کے ساتھ دوطرفہ روابط کو فروغ دینے کی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں قونصل جنرلز کی کاوشوں کے نتیجے میں پاکستان، ملائیشیا اور عراق کے تجارتی، ثقافتی اور سیاسی تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے وزارتِ خارجہ پاکستان کی جانب سے دونوں سفارت کاروں کے مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

معززین کی شرکت اور بین الاقوامی یکجہتی
یہ پروقار تقریب مختلف ممالک کی سفارتی برادری اور کاروباری شخصیتوں کا ایک حسین امتزاج تھی۔ تقریب میں شرکت کرنے والی نمایاں شخصیات میں شامل تھے:

ثاقب صداقت (ڈپٹی ہائی کمشنر، بنگلہ دیش)

سید عبدالجبار (قونصل جنرل، افغانستان)

خالد تواب (اعزازی قونصل جنرل، موزمبیق)

شاہد جاوید (صدر، پاکستان ملائیشیا بزنس فورم)

ان کے علاوہ سول سوسائٹی، بزنس کمیونٹی اور دیگر دوست ممالک کے نمائندوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی اور دونوں قونصل جنرلز کی سفارتی کامیابیوں پر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔

تقریب کا اختتام پرتپاک الوداعی جملوں، یادگاری تحائف اور دونوں معزز سفارت کاروں کے روشن اور کامیاب مستقبل کے لیے دعاؤں کے ساتھ ہوا۔ کراچی میں منعقد ہونے والی اس تقریب نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ پاکستان نہ صرف عالمی سفارتکاری کا ایک اہم مرکز ہے بلکہ یہاں کی فضا مختلف اقدار اور اقوام کو ایک دھاگے میں پرونے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں