
بعض شخصیات وقت کے ایک خاص دور سے تعلق نہیں رکھتیں، بلکہ وقت خود ان سے نسبت پیدا کرتا ہے۔ صدیوں گزر جاتی ہیں، سلطنتیں مٹ جاتی ہیں، شہر بدل جاتے ہیں، زبانوں کے لہجے تبدیل ہو جاتے ہیں، مگر کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں جو وقت کی گرد سے کبھی دھندلی نہیں ہوتیں۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی ایسی ہی ایک آواز کا نام ہے۔
مجھے اکثر یوں محسوس ہوتا ہے کہ اگر کسی خاموش رات میں بھٹ شاہ کی طرف نکل جاؤں، مزار کے صحن میں بیٹھ کر آنکھیں بند کر لوں، تو شاید کہیں دور سے تنبورے کی مدھم آواز سنائی دے۔ ایسا لگے جیسے کوئی درویش آہستہ آہستہ یہ یاد دلا رہا ہو کہ انسان کی اصل منزل دنیا کی چمک نہیں، بلکہ اپنے باطن کی روشنی ہے۔
ہم نے شاہ لطیف کو اکثر صرف ایک شاعر کے طور پر پڑھا ہے، حالانکہ وہ شاعر سے کہیں بڑھ کر ایک مسافر تھے۔ وہ ایسے مسافر تھے جو راستوں پر چلتے ہوئے انسان کے اندر کا سفر بھی طے کرتے تھے۔ ان کے لیے صحرا صرف ریت نہیں تھا، بلکہ صبر کی علامت تھا۔ دریا صرف پانی نہیں تھا، بلکہ امید کا استعارہ تھا۔ پہاڑ صرف پتھر نہیں تھے، بلکہ ثابت قدمی کی مثال تھے۔
ان کی شاعری میں سسی ہے، جو محبت کی خاطر ریگستانوں میں بھٹکتی ہے۔ مارئی ہے، جو محلوں کی آسائش چھوڑ کر اپنے وطن کی مٹی کو ترجیح دیتی ہے۔ نوری ہے، جو عاجزی میں عظمت تلاش کرتی ہے۔ مومل ہے، جو انتظار کا استعارہ بن جاتی ہے۔ یہ کردار محض داستانوں کے کردار نہیں، بلکہ انسانی زندگی کے مختلف رنگ ہیں۔
میں جب سفر کرتا ہوں، کسی نئے شہر کی گلیوں میں چلتا ہوں یا کسی پہاڑ کی چوٹی پر کھڑا ہو کر بادلوں کو اپنے قریب محسوس کرتا ہوں، تو اکثر خیال آتا ہے کہ شاہ لطیف نے بھی شاید سفر کو اسی نظر سے دیکھا ہوگا۔ منزل سے زیادہ راستہ اہم ہوتا ہے، کیونکہ انسان راستوں میں بدلتا ہے، منزل پر نہیں۔
بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے شاہ لطیف کو ان کے مزار تک محدود کر دیا ہے۔ ہم ہر سال عرس پر جاتے ہیں، پھول چڑھاتے ہیں، قوالیاں سنتے ہیں، مگر ان کے پیغام کو اپنی زندگی میں جگہ دینے کی کوشش کم کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کی تعلیمات کتابوں میں بند رکھنے کے لیے نہیں تھیں، بلکہ زندگی میں اتارنے کے لیے تھیں۔
آج کا معاشرہ نفرت، تقسیم، بے صبری اور خود غرضی کے دور سے گزر رہا ہے۔ ایسے وقت میں شاہ لطیف کی آواز پہلے سے کہیں زیادہ ضروری محسوس ہوتی ہے۔ وہ ہمیں یہ نہیں سکھاتے کہ دوسرے کو شکست کیسے دی جائے، بلکہ یہ سکھاتے ہیں کہ اپنے نفس پر کیسے قابو پایا جائے۔ وہ طاقت کی نہیں، کردار کی بات کرتے ہیں۔ وہ دولت کی نہیں، انسانیت کی بات کرتے ہیں۔
مجھے کبھی کبھی یہ خیال بھی آتا ہے کہ اگر شاہ عبداللطیف آج ہمارے درمیان ہوتے تو شاید وہ کسی بلند عمارت یا بڑے شہر میں نہ ملتے۔ شاید وہ کسی چھوٹے سے گاؤں میں کسی کسان کے ساتھ بیٹھے ہوتے، کسی ماہی گیر کی کشتی میں سفر کر رہے ہوتے، کسی چرواہے کے ساتھ بانسری سن رہے ہوتے یا کسی مسافر کو راستہ دکھا رہے ہوتے۔ کیونکہ ان کی شاعری ہمیشہ عام انسان کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔
شاہ لطیف نے ہمیں بتایا کہ محبت صرف کسی ایک انسان سے نہیں ہوتی۔ محبت اپنی سرزمین سے بھی ہوتی ہے، اپنی زبان سے بھی، اپنی تہذیب سے بھی اور سب سے بڑھ کر انسانیت سے ہوتی ہے۔ شاید اسی لیے ان کی شاعری آج بھی مذہب، نسل اور زبان کی دیواروں سے بلند دکھائی دیتی ہے۔
ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں معلومات بہت ہیں، مگر حکمت کم ہوتی جا رہی ہے۔ آوازیں بہت ہیں، مگر سماعت کم ہوتی جا رہی ہے۔ رابطے بہت ہیں، مگر تعلق کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے زمانے میں شاہ لطیف کا کلام ہمیں خاموشی سے یہ سکھاتا ہے کہ انسان پہلے انسان بنے، باقی شناختیں بعد میں آتی ہیں۔
میرے نزدیک شاہ عبداللطیف بھٹائی کو سمجھنے کے لیے صرف ان کا کلام پڑھنا کافی نہیں، بلکہ کبھی کسی سنسان راستے پر تنہا چلنا بھی ضروری ہے، کسی دریا کے کنارے خاموش بیٹھنا بھی ضروری ہے، کسی غریب کی آنکھوں میں امید تلاش کرنا بھی ضروری ہے، اور اپنے اندر اٹھنے والے سوالوں سے ملنا بھی ضروری ہے۔
شاید تب کہیں جا کر احساس ہو کہ شاہ لطیف صرف بھٹ شاہ میں مدفون ایک بزرگ کا نام نہیں، بلکہ وہ ایک ایسا چراغ ہیں جس کی روشنی ہر اس دل تک پہنچ سکتی ہے جو سچ، محبت اور انسانیت کی تلاش میں ہو۔
اور شاید یہی کسی بڑے شاعر کی اصل پہچان ہوتی ہے کہ اس کا جسم ایک دن مٹی میں چلا جاتا ہے، مگر اس کا فکر آنے والی صدیوں تک لوگوں کے دلوں میں سفر کرتا رہتا ہے
