نشہ آور دوا پلاکر14سالہ لڑکی سے مسلسل جنسی زیادتی اور ویڈیو بنانے والا ملزم اور اسکی بہن گرفتار

کراچی 19 جون 2026ء

لاہور میں نشہ آور دوا پلا کر 14 سالہ لڑکی سے جنسی زیادتی کرنے والے ملزم کو غالب مارکیٹ پولیس نے گرفتار کر لیا۔ 1 روز قبل 14 سالہ لڑکی گھر سے اکیڈمی کیلئے جا رہی تھی، ملزم اور اس کی بہن متاثرہ لڑکی کو ورغلا کر اپنے ساتھ کوارٹر لے گئے، ملزم دانیال نے لڑکی کو نشہ آور دوا پلا کر زیادتی کی اور وڈیوز بھی بنائی ۔

لاہور کے علاقے غالب مارکیٹ میں ایک انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک اوباش ملزم نے اپنی بہن کے ساتھ مل کر ایک 14سالہ لڑکی کو چنگل میں پھنسایا اور اسے اپنی ہوس کا نشانہ بنا ڈالا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب متاثرہ لڑکی روزمرہ کے معمول کے مطابق اپنے گھر سے اکیڈمی کے لیے نکلی تھی، لیکن راستے میں گھات لگائے ملزم اور اس کی سفاک بہن نے اسے اپنی باتوں میں ورغلایا اور زبردستی ایک کوارٹر میں لے گئے۔ جہاں معصوم لڑکی کو نشہ آور دوا پلا کر بے بس کیا گیا اور اس کی عزت پامال کی گئی۔

اس گھناؤنے جرم کی انتہا یہیں ختم نہیں ہوئی، بلکہ ملزم دانیال نے زیادتی کے دوران لڑکی کی نازیبا ویڈیوز اور تصاویر بھی بنائیں تاکہ مستقبل میں اسے بلیک میل کیا جا سکے۔ واقعہ کے بعد ملزم ان ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے اور بدنام کرنے کی مسلسل دھمکیاں دیتا رہا، جس کے باعث متاثرہ لڑکی شدید ذہنی اذیت اور خوف کا شکار رہی۔ ملزم نے ان غیر اخلاقی ویڈیوز کا سہارا لے کر لڑکی کو طویل عرصے تک بلیک میل کیا اور خاموش رہنے پر مجبور کرتا رہا۔

متاثرہ خاندان کی جانب سے پولیس کو اطلاع ملنے پر غالب مارکیٹ پولیس نے فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم دانیال اور اس کی معاونت کرنے والی بہن کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس نے جدید ٹیکنالوجی اور فوری حکمت عملی کے تحت ملزمان کو حراست میں لے کر ان کے قبضے سے قابل اعتراض مواد برآمد کرنے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، تاکہ عدالت میں ٹھوس شواہد پیش کیے جا سکیں۔

ایس پی ماڈل ٹاؤن اسد علی نے میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے سخت موقف اپنایا کہ گرفتار ملزمان کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے کیس جینڈر سیل کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ معاشرے میں خواتین اور کمزور طبقات کا استحصال کرنے والے اور بلیک میلنگ میں ملوث عناصر کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں ہیں اور پولیس متاثرہ فریق کو انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کرے گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں