پاکستان کے معروف ٹک ٹاکر علی حیدرآبادی نے اپنی اہلیہ کے ساتھ جاری قانونی تنازع میں ایک نیا موڑ دیتے ہوئے ان کی سرکاری میڈیکل رپورٹ کو لاہور کی ضلع کچہری میں چیلنج کر دیا ہے۔ ٹک ٹاکر نے اپنے وکیل رانا انتظار حسین کے توسط سے عدالت میں باقاعدہ درخواست دائر کی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان کی اہلیہ کی انگلی فریکچر ہونے سے متعلق تیار کی گئی میڈیکل رپورٹ بالکل جھوٹی اور حقائق کے منافی ہے۔ اس پیش رفت کے بعد سوشل میڈیا سٹار اور ان کی اہلیہ کے درمیان جاری تنازع ایک بار پھر عوامی اور قانونی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
علی حیدرآبادی کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ان کی اہلیہ کی انگلی میں کسی قسم کا کوئی فریکچر موجود ہی نہیں ہے اور ان پر لگائے گئے تشدد کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ درخواست گزار کے مطابق موجودہ میڈیکل رپورٹ شواہد اور حقائق کو مسخ کر کے تیار کی گئی ہے، لہٰذا اس رپورٹ کی قانونی حیثیت اور صداقت کی دوبارہ غیر جانبدارانہ جانچ کرانا انتہائی ضروری ہو چکا ہے تاکہ سچائی سامنے آ سکے۔
ٹک ٹاکر علی حیدرآبادی نے عدالتِ عالیہ سے استدعا کی ہے کہ اس پورے معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے ایک نیا آزاد میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم جاری کیا جائے۔ ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ نیا میڈیکل بورڈ تشکیل پانے کے بعد حقائق خود بخود واضح ہو جائیں گے اور ان کے موکل کے خلاف درج کرائے گئے مقدمے کا اصل سچ عدالت کے سامنے آ جائے گا۔ عدالت کی جانب سے درخواست پر آئندہ سماعت کے دوران فیصلہ سامنے آنے کی توقع ہے۔
