سانحہ بلدیہ ٹاؤن کیس: سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، رحمان بھولا اور زبیر چریا بری

اسلام آباد (ویب ڈیسک) 10 جون 2026

سپریم کورٹ آف پاکستان نے تاریخ کے المناک ترین واقعات میں سے ایک، سانحہ بلدیہ ٹاؤن کیس میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے سزائے موت پانے والے دو ملزمان، عبدالرحمان بھولا اور زبیر چریا کو بری کر دیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے ٹرائل کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے سزائے موت کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزمان کو ’شک کا فائدہ‘ (Benefit of Doubt) دینے کا حکم دیا ہے۔

عدالتی کارروائی اور اہم ریمارکس
سپریم کورٹ میں جسٹس شہزاد ملک کی سربراہی میں بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت عدالت نے تفتیشی عمل اور استغاثہ کے شواہد پر سخت سوالات اٹھائے۔ جسٹس شہزاد ملک نے ریمارکس دیے کہ “تقاریر تو الطاف حسین اس واقعہ سے پہلے بھی کرتے تھے،” اور کسی نے یہ ثابت نہیں کیا کہ زبیر چریا ایم کیو ایم کا کارکن تھا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ اگر بھتا مانگنا مقصد تھا تو پھر ورکرز کو مارنے کا کیا جواز تھا؟ مزید برآں، عدالت نے فیکٹری میں کیمیکل کے استعمال کے شواہد نہ ملنے پر بھی استغاثہ کی دلیل کو کمزور قرار دیا۔جسٹس شہزاد ملک نے کہا کہ کسی سیاسی جماعت کا سیکٹر انچارج تبدیل ہونا کوئی جرم نہیں ہے، اور اگر ایم کیو ایم کے دیگر رہنماؤں کو بری کیا گیا ہے تو ان کی بریت کو چیلنج کیوں نہیں کیا گیا۔

سانحہ بلدیہ کا پس منظر،11 ستمبر 2012 کو کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں واقع ایک گارمنٹ فیکٹری میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 259 افراد زندہ جل کر جاں بحق ہو گئے تھے، جبکہ 59 افراد شدید زخمی ہوئے تھے۔ یہ واقعہ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا انسانی سانحہ سمجھا جاتا ہے۔ ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے بھتے کی عدم ادائیگی پر فیکٹری کو آگ لگائی تھی۔ تاہم، سالوں کی عدالتی کارروائی کے بعد سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ کیس کے تمام قانونی پہلوؤں کو ایک نئی جہت دیتا ہے۔لواحقین اور فریقین کی درخواستیں خارج.سپریم کورٹ نے جاں بحق افراد کے لواحقین کو فریق بنانے کی تمام درخواستیں خارج کر دیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اگر کچھ لوگوں کو فریق بنایا گیا تو مزید سینکڑوں درخواستیں آ جائیں گی، جس سے کیس کا دائرہ کار غیر ضروری طور پر پھیل جائے گا۔ عدالت نے کہا کہ مقدمے کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔اس فیصلے نے جہاں ایک طرف ملزمان کے خاندانوں میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے، وہیں سانحہ بلدیہ کے متاثرین اور انصاف کے متلاشی حلقوں کی جانب سے اس پر شدید ردِعمل اور سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں