مویشی منڈیوں میں مندی کا رجحان؛ گرمی کی شدت اور خریداروں کی کمی کے باعث قربانی کے جانور انتہائی سستے

قیمتوں کے تعین پر خریدار اور بیوپاری آمنے سامنے؛ جانوروں کی سرکاری قیمت کا کوئی فارمولا نہیں، بیوپاری لاگت گنوانے لگے جبکہ شہریوں نے شدید گرمی میں ریٹ گرنے پر سکھ کا سانس لیا

اسپیشل رپورٹ

لاہور/کراچی: عید الاضحیٰ کی آمد کے ساتھ ہی ملک بھر کی مویشی منڈیوں میں قربانی کے جانوروں کی قیمتیں اور ان کا تعین ہمیشہ سے ایک بڑا موضوعِ بحث رہا ہے، جہاں ایک طرف خریدار مہنگائی کا شکوہ کرتے نظر آتے ہیں تو دوسری طرف بیوپاری مناسب قیمت نہ ملنے کا رونا روتے ہیں۔ تاہم، حالیہ دنوں میں پڑنے والی شدید اور غیر معمولی گرمی کی لہر نے منڈی کا رخ یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ گرمی کی شدت کے باعث منڈیوں میں خریداروں کا رش انتہائی کم ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے مویشی منڈیوں میں اچانک بڑا کریش دیکھنے میں آیا ہے اور بیوپاریوں نے اپنے جانور اونے پونے اور انتہائی سستے داموں بیچنا شروع کر دیے ہیں۔

منڈی گر گئی؛ شدید گرمی کے باعث قیمتوں میں نمایاں کمی
رپورٹس کے مطابق، ملک کے بیشتر حصوں میں درجہ حرارت بڑھنے اور شدید لو کے باعث شہری دن کے وقت منڈیوں کا رخ کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ خریداروں کی اس عدم دلچسپی اور جانوروں کو گرمی سے بچانے کی فکر میں بیوپاریوں کے حوصلے پست ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں منڈی تیزی سے گر گئی ہے۔ بیوپاریوں نے عید کے آخری دنوں میں نقصان سے بچنے کے لیے جانوروں کی قیمتیں یکدم کم کر دی ہیں، جس سے ان شہریوں کو بڑا فائدہ پہنچا ہے جو سستے جانوروں کے انتظار میں تھے۔

عام اور اعلیٰ نسل کے جانوروں کے موجودہ نرخ
قیمتوں میں اس حالیہ کمی کے بعد مویشی منڈیوں میں جانوروں کے اوسط ریٹس کچھ اس طرح ریکارڈ کیے جا رہے ہیں:
جانور کی قسم,درمیانی/عام نسل کی قیمت,اعلیٰ/بھاری نسل کی قیمت
بکرے اور چھترے,90 ہزار سے 1 لاکھ 25 ہزار روپے,2 لاکھ سے 4 لاکھ روپے تک
بیل اور بچھڑے,3 لاکھ سے 7 لاکھ روپے,8 لاکھ سے 15 لاکھ روپے تک
اونٹ (Camels),5 لاکھ روپے سے شروع,20 لاکھ روپے تک (صحت کے مطابق)

قیمتوں کا تعین کیسے ہوتا ہے؟ بیوپاریوں کا مؤقف
ماہرین اور بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ قربانی کے جانور کی قیمت کسی ایک پیمانے پر مقرر نہیں کی جاتی۔ بہاولپور سے بکرے فروخت کرنے کے لیے آنے والے بیوپاری عبدالرحمن نے بتایا کہ جانور کی نسل، وزن، صحت، خوبصورتی، قد و قامت اور مارکیٹ میں طلب کے رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمت مقرر کی جاتی ہے۔ اچھی نسل اور خوبصورت جانوروں کی طلب زیادہ ہونے کے باعث ان کی قیمت بھی نسبتاً زیادہ رکھی جاتی ہے۔

ایک اور بیوپاری میاں شفیق نے کہا کہ جانوروں کی خوراک، چارے، دیکھ بھال، ادویات اور خاص طور پر ٹرانسپورٹ پر آنے والے بھاری اخراجات بھی قیمت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ بریڈنگ فارم کے مالک رانا مبشر حسن نے بھی اس کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ نسل کے جانوروں کی تیاری پر بھاری سرمایہ خرچ ہوتا ہے، بڑے فارموں پر جانوروں کی خوراک اور ویکسینیشن پر مسلسل اخراجات آتے ہیں، اسی لیے ان کا ریٹ عام جانوروں سے زیادہ ہوتا ہے۔

خریداروں کا ردِعمل: ”آسمان سے باتیں کرتی قیمتیں زمین پر آ گئیں“
دوسری جانب، خریداروں نے اگرچہ منڈی گرنے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ بیوپاریوں کی ابتدائی مانگ اب بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ منڈی میں موجود شہری آفتاب احمد نے کہا کہ بیوپاری شروع میں ایسی قیمتیں مانگتے ہیں جو “آسمان سے باتیں” کر رہی ہوتی ہیں، لیکن خریدار اپنی استطاعت کے مطابق اس سے بہت کم بولی لگاتے ہیں۔ ان کے بقول:

”جب بیوپاری اتنی زیادہ قیمت مانگتے ہوئے شرم محسوس نہیں کرتے تو خریدار بھی شدید گرمی اور منڈی کے رجحان کو دیکھ کر کم قیمت بتانے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ اب چونکہ گاہک کم ہے، اس لیے بیوپاری خود ہی ریٹ کم کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔“

سرکاری سطح پر قیمتوں کے تعین کا کوئی فارمولا نہیں
پنجاب کیٹل مارکیٹ مینجمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی کے ترجمان شیخ اسد ظفر نے اس حوالے سے اہم پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا کہ قربانی کے جانوروں کی قیمت مقرر کرنے کے لیے کوئی سرکاری فارمولا یا باقاعدہ طریقہ کار موجود نہیں ہے۔ بیوپاری اپنے جانور کی نسل، وزن، صحت اور خوبصورتی کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمت خود مقرر کرتے ہیں اور کمپنی اس آزادانہ تجارتی عمل میں مداخلت نہیں کرتی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ قربانی کے جانوروں کی کوئی باقاعدہ ٹیگنگ یا نمبرنگ نہیں کی جاتی، تاہم اگر کسی خریدار یا بیوپاری کے ساتھ منڈی کے اندر دھوکا دہی کی کوئی شکایت موصول ہو تو اس پر فوری قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔ ترجمان نے شہریوں کو مخلصانہ مشورہ دیا کہ وہ گرمی کے اس موسم میں کمپنی کے مقرر کردہ باقاعدہ باڑوں اور رجسٹرڈ مویشی منڈیوں سے ہی جانور خریدیں اور سڑک کنارے غیر قانونی طور پر کھڑے کیے گئے جانوروں کو خریدنے سے گریز کریں تاکہ سیکیورٹی اور دیگر مسائل سے بچا جا سکے۔

مویشی منڈیوں میں مندی کا رجحان؛ گرمی کی شدت اور خریداروں کی کمی کے باعث قربانی کے جانور انتہائی سستے“ ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ لکھیں