ویب ڈیسک (12 جون 2026)
بھارتی ٹی وی اور فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ ایوا گروور نے اپنی ناکام ازدواجی زندگی سے متعلق کئی نئے اور دل دہلا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عامر خان کے سوتیلے بھائی حیدر علی خان کے ساتھ شادی ان کی زندگی کا ایسا فیصلہ ثابت ہوئی جس پر انہیں بعد میں شدید پچھتاوا ہوا۔
شادی کا جذباتی فیصلہ اور حقیقت
ایک حالیہ انٹرویو میں اداکارہ نے کہا کہ کم عمری ہی سے ان کے ذہن میں ایک خوشحال اور رومانوی خاندان کا خواب موجود تھا، لیکن عملی زندگی میں حالات توقعات کے برعکس نکلے۔ ایوا گروور نے انکشاف کیا کہ انہوں نے حیدر علی خان کو محض 18 دن جاننے کے بعد ہی شادی کا فیصلہ کر لیا تھا۔ آج جب وہ ماضی پر نظر ڈالتی ہیں تو انہیں شدت سے احساس ہوتا ہے کہ اتنے قلیل عرصے میں کسی شخص کی اصل شخصیت کو سمجھنا ناممکن ہوتا ہے اور شاید یہ ان کی اپنی جلد بازی کی غلطی تھی۔
اداکارہ کے مطابق، خاندان کی شدید مخالفت کے باوجود انہوں نے گھر چھوڑ کر حیدر علی خان سے شادی کی۔ اس وقت ان کا کیریئر عروج پر تھا اور دونوں مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے تھے، مگر انہوں نے تمام رکاوٹوں کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ قدم اٹھایا۔
تشدد اور جارحانہ رویے کا اعتراف
ایوا گروور نے بتایا کہ شادی کے کچھ ہی عرصے بعد انہیں احساس ہو گیا کہ ان کے شوہر وہ شخص نہیں ہیں جن کا انہوں نے تصور کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے بڑا مسئلہ شوہر کا شدید غصہ اور جارحانہ رویہ تھا، جس نے ازدواجی زندگی کو جہنم بنا دیا۔ جب ان سے براہِ راست سوال کیا گیا کہ کیا وہ جسمانی تشدد کا شکار ہوئیں، تو اداکارہ نے اس کی تصدیق کی اور بتایا کہ وہ کئی مواقع پر اپنے شوہر کے تشدد کا نشانہ بنیں۔ تاہم، انہوں نے کسی مخصوص واقعے کی تفصیلات بیان کرنے سے گریز کیا۔
اداکارہ کے مطابق وہ برسوں تک اس رشتے میں صرف اس لیے جڑی رہیں کیونکہ انہیں مسلسل یہ باور کرایا جاتا تھا کہ ہر خرابی کی ذمہ دار وہ خود ہیں۔ انہیں احساس دلایا جاتا تھا کہ وہ نااہل ہیں اور معاملات کو صحیح طریقے سے سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔
ماں بننے کا فیصلہ اور زندگی کا اہم موڑ
شادی کے چار سال بعد ایوا گروور نے اس امید پر ماں بننے کا فیصلہ کیا کہ شاید بچے کی آمد سے تعلقات میں بہتری آ جائے۔ اداکارہ نے افسوس کا اظہار کیا کہ اکثر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ بچہ ایک خراب شادی کو بچا سکتا ہے، لیکن حقیقت میں ایسا ہرگز نہیں ہوتا۔ انہوں نے بتایا کہ حمل کے دوران بھی وہ کام کرتی رہیں، مگر ازدواجی مسائل ویسے ہی رہے۔ ان کی بیٹی کی پیدائش ان کی زندگی کا اہم ترین موڑ ثابت ہوئی؛ پیدائش کے صرف ایک ماہ بعد انہیں شدت سے احساس ہوا کہ وہ اب مزید اس ماحول میں نہیں رہ سکتیں۔
ساتھی فنکاروں کی مدد اور آزادی
اداکارہ نے بتایا کہ ایک ڈرامے کی شوٹنگ کے دوران ان کے ساتھی فنکاروں اور عملے نے ان کی ذہنی کیفیت اور تکلیف کو محسوس کیا اور وہ ان کی مدد کے لیے آگے آئے۔ ڈرامے کی پوری ٹیم ایک دن ان کے گھر پہنچی، ان کی والدہ سے بات کی اور انہیں اس مشکل صورتحال سے نکلنے کا حوصلہ دیا۔ اس کے بعد وہ اپنی والدہ کے گھر منتقل ہو گئیں، جنہوں نے انہیں کھلے دل سے خوش آمدید کہا۔
طاہر حسین اور خاندان کا کردار
ایوا گروور نے اس موقع پر عامر خان کے والد مرحوم طاہر حسین کو یاد کرتے ہوئے انہیں نہایت مہربان اور ہمدرد انسان قرار دیا۔ ان کے مطابق طاہر حسین اکثر ان کی حالت دیکھ کر دکھی ہو جاتے تھے اور جذباتی ہو کر ان کی حمایت کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی سابقہ ساس شہناز کی بھی تعریف کی اور کہا کہ مشکل وقت میں قریبی افراد کی حمایت نے ہی انہیں اپنی زندگی کا نیا آغاز کرنے کا حوصلہ دیا۔ اداکارہ نے ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے انہیں اس تکلیف دہ اور پرتشدد رشتے سے باہر نکلنے میں مدد فراہم کی۔