بریکنگ نیوز : اسرائیل کے ایران پر حملے: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا دھماکہ، مہنگائی کا طوفان آنے کا خدشہ!

لندن/تہران (ویب ڈیسک) 8 جون 2026

مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حالیہ حملوں کی اطلاعات کے بعد بین الاقوامی توانائی منڈیوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور خام تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔ یہ خبر سامنے آتے ہی دنیا بھر کے اسٹاک ایکسچینجز اور انرجی مارکیٹس میں ایک سنسنی دوڑ گئی ہے، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کو دنیا کی شہ رگ قرار دیا جاتا ہے جہاں سے توانائی کی عالمی سپلائی کا ایک بہت بڑا حصہ گزرتا ہے۔ سرمایہ کاروں اور معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو عالمی معیشت ایک ایسے بحران کی لپیٹ میں آ سکتی ہے جس سے نکلنا آسان نہیں ہوگا۔

قیمتوں میں تاریخی اضافہ: برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی اڑان
مارکیٹ کے اعدادوشمار کے مطابق، حملے کی خبر نشر ہونے کے صرف 60 منٹ کے اندر عالمی معیار کے ‘برینٹ خام تیل’ (Brent Crude) کی قیمتوں میں 3.63 فیصد کا زبردست اور اچانک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس اضافے کے بعد برینٹ خام تیل 96.75 ڈالر فی بیرل کی خطرناک حد کو چھو چکا ہے۔ اسی طرح امریکی خام تیل ‘ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ’ (WTI) کی قیمت میں بھی 3.35 فیصد کا بڑا اچھال آیا ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 93.89 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق، اتنی تیزی سے قیمتوں کا بڑھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی سطح پر پینک (Panic) کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے اور سرمایہ کار مستقبل کے حوالے سے شدید غیر یقینی کا شکار ہیں۔

عالمی معیشت پر اثرات: کیا مہنگائی کا نیا سیلاب آنے والا ہے؟
توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں فوجی کشیدگی صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہتی۔ چونکہ ایران دنیا کے اہم ترین تیل برآمد کنندہ ممالک میں شامل ہے، اس لیے اس قسم کے حملوں سے ‘سپلائی چین’ (Supply Chain) متاثر ہونے کا خدشہ ہر لمحہ منڈلا رہا ہے۔ اگر ایران نے آبنائے ہرمز یا دیگر اہم راستوں کو اپنے دفاع میں بند کیا یا یہاں مزید فوجی کارروائیاں ہوئیں، تو دنیا کو تیل کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پیٹرول، ڈیزل اور دیگر ایندھن کی قیمتیں عالمی سطح پر کئی گنا بڑھ سکتی ہیں، جس سے ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ ہو گا، جس کی زد میں عام آدمی سب سے زیادہ آئے گا۔

سرمایہ کاروں کی نظریں اور مستقبل کا منظر نامہ
عالمی منڈیاں اب مکمل طور پر ایران اور اسرائیل کے درمیان صورتحال پر مرکوز ہیں۔ اگر یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد کو بھی عبور کر سکتی ہیں، جو عالمی معیشت کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہوگا۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے چند دن انتہائی فیصلہ کن ہوں گے۔ دنیا بھر کی بڑی طاقتیں اور مالیاتی ادارے اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ کیا یہ معاملہ محدود فوجی کارروائیوں تک رہے گا یا ایک بڑی جنگ کی شکل اختیار کر لے گا۔ فی الحال، عالمی سرمایہ کاروں میں افراتفری کی کیفیت ہے اور ہر کوئی اپنے اثاثوں کو محفوظ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ تیل کی قیمتوں میں ہونے والا یہ اچانک اضافہ دنیا بھر کے حکمرانوں کے لیے ایک بڑی تشویش کا باعث بن چکا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں