تہران/تل ابیب (ویب ڈیسک) 8 جون 2026
مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال انتہائی دھماکہ خیز رخ اختیار کر گئی ہے، جہاں ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل حملوں کے جواب میں اسرائیل نے ایران پر باقاعدہ فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔ آج علی الصبح تہران، تبریز اور اصفہان سمیت ایران کے کئی اہم شہروں میں ایک کے بعد ایک زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد پورے ملک میں ہلچل مچ گئی اور شہری خوف و ہراس کے عالم میں محفوظ مقامات کی تلاش میں نکل پڑے۔ یہ حملے گزشتہ روز ایران کی جانب سے شمالی اسرائیل پر داغے گئے بیلسٹک میزائلوں کا براہِ راست اور انتہائی سخت ردِعمل معلوم ہوتے ہیں۔
حملوں کی نوعیت اور عالمی پسِ منظر
یہ کارروائی اس وقت سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر جنگ بندی کے لیے شدید دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔ اطلاعات کے مطابق، یہ اسرائیلی فضائی حملے امریکی انتظامیہ کی جانب سے مسلسل تحمل کی اپیلوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کیے گئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو کیے گئے ہنگامی رابطوں میں صورتحال کو قابو میں رکھنے اور کشیدگی کم کرنے پر زور دیا گیا تھا، تاہم ان اپیلوں کے باوجود اسرائیل کی جانب سے ایران کی تنصیبات کو نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک اب براہِ راست فوجی تصادم کی راہ پر گامزن ہیں۔
کشیدگی کیوں پیدا ہوئی؟
یاد رہے کہ گزشتہ روز ایران نے لبنان پر اسرائیلی کارروائیوں اور مبینہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے اسرائیل کے شمالی حصوں پر بیلسٹک میزائلوں سے بڑا حملہ کیا تھا۔ ایران کا مؤقف تھا کہ یہ کارروائی ان کے اتحادیوں کے دفاع اور خطے میں جاری اسرائیلی جارحیت کا جواب ہے۔ تاہم، اسرائیل نے ان حملوں کو اپنی خود مختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے فوری اور جوابی کارروائی کا اعلان کیا تھا، جس کا عملی مظاہرہ آج صبح تہران اور دیگر شہروں پر ہونے والے فضائی حملوں کی صورت میں دیکھنے میں آیا ہے۔
مستقبل کا منظر نامہ اور عالمی اثرات
اس تازہ ترین پیش رفت نے پورے خطے کو ایک غیر یقینی صورتحال میں دھکیل دیا ہے۔ تہران سمیت اہم ایرانی شہروں میں دھماکوں کی آوازیں اس بات کا اشارہ ہیں کہ اسرائیل نے ایران کے دفاعی ڈھانچے یا اہم اسٹریٹجک تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ اگر یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک ایسی مکمل جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے جو عالمی توانائی کی سپلائی لائنوں، تجارت اور امن و امان کے لیے تباہ کن ہوگی۔ دنیا بھر کے دارالحکومتوں میں اس صورتحال پر شدید تشویش پائی جاتی ہے، جبکہ ایران کی جانب سے کسی بھی مزید جوابی کارروائی کے امکانات نے عالمی اسٹاک مارکیٹوں اور سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔
”اسرائیل کے ایران پر جوابی فضائی حملے: تہران اور اصفہان میں زوردار دھماکے، خطے میں جنگ کا خطرہ!“ ایک تبصرہ