اورنگی ٹاؤن میں سنسنی خیز واردات؛ سسرال سے واپسی پر اندھا دھند فائرنگ، معصوم بچے کے سامنے باپ کی ٹارگٹ کلنگ!

کراچی (کرائم رپورٹر) 22 جون 2026

کراچی کے گنجان آباد علاقے اورنگی ٹاؤن سیکٹر ساڑھے گیارہ میں ایک انتہائی لرزہ خیز، ہولناک اور سنسنی خیز خونی واردات پیش آئی ہے جہاں نامعلوم موٹر سائیکل سوار سفاک ملزمان نے دن دیہاڑے فائرنگ کر کے ایک شخص کو موت کے گھاٹ اتار دیا جبکہ فائرنگ کے اس خوفناک واقعے کے دوران موٹر سائیکل سے گرنے کے باعث مقتول کا معصوم بیٹا بھی شدید زخمی ہو گیا ہے۔ اس اچانک اور اندوہناک واقعے کے بعد پورے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور جائے وقوعہ پر لوگوں کی بھاری جمع ہو گئی۔ کراچی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اطلاع ملتے ہی علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور لاش و زخمی بچے کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا۔

پولیس کے اعلیٰ حکام کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی تفصیلات کے مطابق جاں بحق ہونے والے بدنصیب شخص کی شناخت 45 سالہ سمیع اللہ کے نام سے ہوئی ہے جو اورنگی ٹاؤن کے ہی علاقے چشتی نگر کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔ مقتول سمیع اللہ اپنے معصوم بیٹے کے ہمراہ اپنے سسرال سے ملنے کے بعد واپس اپنے گھر کی طرف جا رہا تھا کہ پہلے سے گھات لگائے موٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم مسلح ملزمان نے اس کا پیچھا کیا اور سنسان جگہ دیکھ کر اس کی موٹر سائیکل کے بالکل قریب آ گئے۔ ملزمان نے انتہائی بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سمیع اللہ کے سر پر نشانہ لے کر گولی ماری جو آر پار ہو گئی اور وہ اپنے بیٹے کے سامنے ہی تڑپتے ہوئے موقع پر دم توڑ گیا۔

پولیس کی کرائم سین انوسٹی گیشن ٹیم نے جائے وقوعہ کا باریک بینی سے معائنہ کرنے کے بعد زمین سے نائن ایم ایم (9mm) پستول کا ایک خول اپنے قبضے میں لے لیا ہے جسے فرانزک لیبارٹری بھیجا جا رہا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جس پیشہ ورانہ انداز سے سر میں گولی ماری گئی ہے، اس سے یہ واقعہ بظاہر ٹارگٹ کلنگ کا معلوم ہوتا ہے اور ابتدائی طور پر اسے شدید ذاتی دشمنی کا شاخسانہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم پولیس نے تمام زاویوں سے کیس کی باقاعدہ ہائی لیول تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ اصل محرکات تک پہنچا جا سکے۔ مقتول کا نجی طور پر کسی سے کوئی جھگڑا تھا یا نہیں، اس بات کا پتہ لگانے کے لیے مقتول کے فون کالز کے ڈیٹا اور قریبی سی سی ٹی وی (CCTV) کیمروں کی ریکارڈنگز کو بھی چیک کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب مقتول سمیع اللہ کے بھائی نے انتہائی غمزدہ حالت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سمیع اللہ تین معصوم بچوں کے شفیق باپ تھے جن میں دو بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہے اور وہ اپنے گھر کے اکیلے کفیل تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سمیع اللہ اپنے گھر کے قریب ہی جوتوں کا ایک ذاتی کاروبار اور چھوٹا کارخانہ چلاتے تھے اور ان کی کسی سے کوئی جانی دشمنی نہیں تھی۔ واقعے کے وقت ان کا اکلوتا بیٹا بھی موٹر سائیکل پر ان کے ساتھ سوار تھا جو فائرنگ کے ہولناک دھماکے اور موٹر سائیکل سلپ ہونے کی وجہ سے سڑک پر گر کر زخمی ہوا اور اب شدید ذہنی صدمے میں ہے۔ اہل خانہ نے آئی جی کراچی سے اپیل کی ہے کہ قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے کڑی سزا دی جائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں