ضیاء کالے کا سسٹم تباہ! کراچی میں غیر قانونی تعمیرات اور بھتہ خوری نیٹ ورک کے خلاف حساس ادارے کی نشاندہی پر بڑا ایکشن، اہم کارندے گرفتار

کراچی (کرائم رپورٹر) 18 جون 2026

کراچی کے ڈسٹرکٹ سینٹرل میں حساس ادارے کی نشاندہی پر پولیس نے ایک بہت بڑی کارروائی کرتے ہوئے مبینہ طور پر غیر قانونی تعمیرات اور بھتہ خوری سے منسلک ایک منظم نیٹ ورک کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا ہے۔ تھانہ سپر مارکیٹ پولیس نے لیاقت آباد کے علاقے میں کامیاب چھاپہ مار کر بدنام زمانہ “ضیاء کالے کے سسٹم” سے وابستہ دو مفرور کارندوں کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ ان کے دیگر دو ساتھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چکمہ دے کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ پولیس حکام کے مطابق یہ ملزمان تھانہ سپر مارکیٹ میں درج مقدمہ نمبر 399/2026 زیر دفعات 384، 385 اور 34 کے تحت بھتہ خوری کے کیس میں مطلوب تھے اور واردات کے بعد سے روپوش تھے جن کی گرفتاری کے لیے پولیس کافی عرصے سے متحرک تھی۔

تفصیلات کے مطابق ایس ایچ او سپر مارکیٹ کو ایک قابلِ اعتماد مخبر کی جانب سے پختہ اطلاع ملی تھی کہ مفرور ملزمان لیاقت آباد کے علاقے ال مصطفیٰ چوک سی ایریا میں موجود ہیں جس پر پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے پورے علاقے کا محاصرہ کیا اور کامیاب چھاپہ مارا۔ کارروائی کے دوران پولیس نے دو مفرور ملزمان احسن خان عرف پنکی ولد افضل خان اور اسٹیٹ کے کاروبار سے وابستہ محمد منصور ولد محمد نقی کو حراست میں لے لیا جبکہ ملزمان کے قبضے سے دو عدد موبائل فون اور مجموعی طور پر 7 ہزار 400 روپے نقد رقم برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ایس ایچ او سپر مارکیٹ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اعلیٰ پولیس حکام کی خصوصی ہدایات اور جدید انٹیلیجنس کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی ہے تاہم مقدمے میں نامزد مزید دو ملزمان فہیم عرف کٹ دانہ اور کامران مرزا تاحال مفرور ہیں جن کی گرفتاری کے لیے پولیس کے چھاپے جاری ہیں۔

مقامی اور باخبر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ گرفتار ملزم احسن خان عرف پنکی کو پاکستان پیپلز پارٹی ڈسٹرکٹ سینٹرل کے سابق رکن اصغر لال کا انتہائی قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے اور وہ علاقے میں غیر قانونی تعمیرات سے متعلق ایک مبینہ نیٹ ورک کے تمام تر انتظامی اور مالی معاملات کو سنبھالتا رہا ہے تاہم پولیس نے اس سیاسی وابستگی پر کوئی باضابطہ مؤقف جاری نہیں کیا۔ دوسری جانب مفرور ملزم کامران عرف “مرزا” کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) سے وابستہ ماضی کی انتہائی متنازع اور کرپٹ سرگرمیوں کے حوالے سے زیرِ بحث رہنے والے ضیاء عرف “کالے” کا قریبی رشتہ دار ہے اور اسی کے نیٹ ورک کو چلا رہا تھا جس پر ڈسٹرکٹ سنٹرل میں غیر قانونی تعمیرات، پلاٹوں کے تنازعات اور لاکھوں روپے بھتہ وصول کرنے کے سنگین الزامات ہیں۔

ذرائع کے مطابق دوسرے مفرور ملزم فہیم عرف “کٹ دانا” کے حوالے سے بھی یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ اس کے بعض سیاسی حلقوں سے گہرے روابط رہے ہیں اور وہ سنٹرل ضلع میں تعمیراتی مافیا کے مفادات کے لیے کام کرتا رہا ہے جبکہ ماضی میں بھی اس کے خلاف بھتہ خوری کی شکایات پر ایک خصوصی رپورٹ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ارسال کی گئی تھی جس کے بعد اس کی نگرانی بڑھائی گئی تھی۔ اگرچہ ان تمام دعوؤں اور الزامات کی پولیس یا سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے باضابطہ تصدیق ہونا اور عدالت سے جرم ثابت ہونا باقی ہے، لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش کے دوران نیٹ ورک کے دیگر مفرور کرداروں اور سہولت کاروں کے بارے میں اہم معلومات ملی ہیں جن کی روشنی میں مزید گرفتاریاں جلد متوقع ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں