کراچی میں لرزہ خیز واردات: پولیس اہلکار بیوی نے سابق شوہر کے ساتھ مل کر موجودہ شوہر کو قتل کر دیا، لواحقین کے اہم انکشافات

کراچی (رپورٹ: شاہد صدیقی) 10 جون 2026

کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں پیش آنے والے ایک ہولناک قتل نے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اورنگی ٹاؤن سیکٹر 10 میں حمزہ نامی نوجوان کی گلے میں پھندا لگی لاش برآمد ہوئی، جسے بظاہر خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی تھی، تاہم پولیس کی تحقیقات اور مقتول کے لواحقین کے انکشافات نے کیس کو قتل کی ایک منصوبہ بند واردات ثابت کر دیا ہے۔ اس واقعے کا سب سے چونکا دینے والا پہلو یہ ہے کہ مقتول کی اپنی اہلیہ، جو کہ خود ایک پولیس اہلکار ہے، اپنے سابق شوہر کے ساتھ مل کر اس سفاکانہ قتل میں ملوث پائی گئی ہے۔

واردات کا پسِ پردہ منظر اور پولیس کی کارروائی
مومن آباد تھانے میں مقتول حمزہ کے والد ظہور الدین کی مدعیت میں درج مقدمے کے مطابق، مقتول کی اہلیہ دعا نے گھر والوں کو اطلاع دی تھی کہ حمزہ نے خودکشی کر لی ہے۔ تاہم جب اہلخانہ موقع پر پہنچے تو حمزہ کی لاش چھت سے لٹکی ہوئی تھی، لیکن اس کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور منہ میں کپڑا ٹھونسا ہوا تھا، جس سے یہ واضح ہو گیا کہ یہ خودکشی نہیں بلکہ ایک منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا قتل ہے۔ مقدمے میں مقتول کی اہلیہ دعا اور اس کے سابق شوہر فہد کو نامزد کیا گیا ہے۔ مقتول کے بھائی کے مطابق، واقعہ سے تین روز قبل فہد نے گھر آ کر حمزہ کو دھمکیاں دی تھیں اور جھگڑا کیا تھا۔

پولیس اہلکار بیوی کی گرفتاری اور اہم انکشافات
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مقتول کی اہلیہ دعا کو گرفتار کر لیا ہے، جو سپر مارکیٹ تھانے میں بطور پولیس اہلکار تعینات ہے۔ ابتدائی تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ حمزہ کے ساتھ یہ دعا کی دوسری شادی تھی، جبکہ اس کے پہلے شوہر فہد سے اس کے تین بچے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، ملزمہ واقعے سے ایک روز قبل اپنے سابق شوہر فہد سے بچوں کی ملاقات کرانے بھی گئی تھی، جس سے یہ شبہ ظاہر ہوتا ہے کہ قتل کا منصوبہ اسی دوران تیار کیا گیا۔ مرکزی ملزم فہد تاحال مفرور ہے، جس کی گرفتاری کے لیے پولیس کی جانب سے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

قانون نافذ کرنے والے ادارے کا عزم
کرائم سین یونٹ نے موقع سے تمام شواہد اکٹھے کر لیے ہیں جبکہ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ دعا سے تفتیش جاری ہے تاکہ قتل کے حتمی محرکات اور مفرور ملزم فہد کے ٹھکانے کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں۔ اس واقعے نے جہاں ایک طرف خاندانوں میں اعتماد کے بحران کو اجاگر کیا ہے، وہیں محکمہ پولیس کے ایک اہلکار کے اس سنگین جرم میں ملوث ہونے پر محکمہ جاتی سطح پر بھی تشویش پائی جا رہی ہے۔ پولیس نے یقین دلایا ہے کہ ملزم فہد کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں