
کراچی 15 جون 2026
شہرِ قائد میں ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب فائرنگ کے ہولناک واقعات نے امن و امان کی صورتحال پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ مختلف علاقوں میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 19 شہری، جن میں 5 خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، اندھی گولیوں کا شکار ہو کر زخمی ہو گئے۔ وزیر داخلہ سندھ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
قتل کی وارداتیں: ایک جائزہ
شہر کے مختلف علاقوں میں 3 افراد کو قتل کیا گیا جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

اورنگی ٹاؤن (قصبہ موڑ): یاسین نامی شخص کو قتل کر دیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق مقتول نے چند سال قبل ایک شادی شدہ خاتون سے غیر شرعی نکاح کیا تھا۔ عدالت کے حکم پر مقتول کے خلاف زنا کا مقدمہ درج تھا۔ پولیس کو شبہ ہے کہ قتل میں مقتول کی اہلیہ اور اس کا پہلا شوہر ملوث ہیں۔
اورنگی ٹاؤن (بنارس/علی گڑھ چپل مارکیٹ): نشے میں دھت دوستوں کی آپس میں فائرنگ سے 35 سالہ شکیل نامی دکاندار جاں بحق ہو گیا۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تین ملزمان ذبیح اللہ، اسماعیل اور طلحہ کو گرفتار کر لیا ہے۔
سچل (سمیرا چوک): موٹرسائیکل سوار ملزمان نے 45 سالہ شاہد ولد سہیل کو تعاقب کے بعد سیدھی فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ مقتول کے بیٹے کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ہوائی فائرنگ اور اندھی گولیاں: 19 شہری زخمی
شہر بھر سے مجموعی طور پر 19 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، جن میں سے اکثر گھروں میں بیٹھے یا گلیوں میں چلتے ہوئے ‘اندھی گولیوں’ کا شکار بنے۔ زخمی ہونے والوں میں 5 خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ ان واقعات کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
| علاقہ | زخمیوں کی تفصیلات |
| اورنگی ٹاؤن/نارتھ کراچی | زینب، عبدالباسط، رحیم بی بی، عبداللہ، عرفان، ملیار، یاسر |
| کورنگی/اعظم بستی | نور عالم، عافیہ، ارشاد بی بی |
| دیگر علاقے | دلاور (آئی سی آئی)، آصف (پاپوش)، کاشف (بائی پاس)، دنیا خان (منگھوپیر)، محمد جناب (سائٹ)، شوکت (کلفٹن)، سنی تاج (رزاق آباد)، خان بروہی (قائد آباد)، رضوان (شاہ لطیف) |
حکومتی ایکشن اور پولیس کا موقف
وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے فائرنگ کے ان واقعات پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پولیس حکام کو ہدایت کی ہے کہ ملوث عناصر کو فوری گرفتار کیا جائے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شہر میں ہوائی فائرنگ اور اندھی گولیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام کے لیے حکمت عملی تبدیل کی جا رہی ہے۔ تفتیشی ٹیمیں سی سی ٹی وی فوٹیجز اور کرائم سین یونٹ کے شواہد کی مدد سے مفرور ملزمان کا سراغ لگا رہی ہیں، جبکہ تمام واقعات کی شفاف اور میرٹ پر تحقیقات کا عندیہ دیا گیا ہے۔

2 تبصرے ”کرائم آؤٹ آف کنٹرول: کراچی میں خونی ویک اینڈ: فائرنگ سے 3 افراد جاں بحق، 5 خواتین سمیت 19 زخمی“