High-value commercial plots in Karachi under consideration for KDA public-private partnership project

کراچی میں 90 ارب روپے مالیت کی سرکاری زمین نجی ڈویلپرز کے حوالے کرنے کی تجویز، کے ڈی اے کا بڑا فیصلہ

کراچی (ویب ڈیسک) — 16 جولائی 2026

کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (KDA) نے اپنے بڑھتے ہوئے شدید مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے ایک بڑا اور اہم ترین قدم اٹھاتے ہوئے شہر کی قیمتی ترین سرکاری زمینوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) ماڈل کے تحت نجی ڈویلپرز کے حوالے کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ کے ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل نے حکومتِ سندھ کے محکمہ لوکل گورنمنٹ کو ایک باضابطہ سمری ارسال کی ہے، جس میں تقریباً 90 ارب روپے مالیت کے مختلف پرائم لینڈ پارسلز کو نجی شعبے کے تعاون سے تیار کرنے کی اجازت مانگی گئی ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد ادارے کے گرتے ہوئے معاشی گراف کو سنبھالا دینا اور فنڈز کی شدید قلت پر قابو پانا ہے۔

کے ڈی اے کی جانب سے جمع کرائی گئی سمری کے مطابق، اس بڑے لینڈ پورٹ فولیو میں اسٹیڈیم روڈ پر کے ڈی اے آفیسرز ہاؤسنگ سوسائٹی کے قریب واقع 28 ایکڑ زمین، نارتھ کراچی میں کے ڈی اے اسٹاف کالونی کی 15 ایکڑ اراضی اور فیڈرل بی (F.B) ایریا میں کے ڈی اے فیلڈ آفس کے زیرِ قبضہ 4 ایکڑ اراضی شامل ہے۔ اوپن مارکیٹ میں ان تمام کمرشل و رہائشی پلاٹوں کی مجموعی مالیت تقریباً 90 ارب روپے بتائی جا رہی ہے۔ اتھارٹی کا مؤقف ہے کہ ان منصوبوں سے حاصل ہونے والی آمدنی سے ریٹائرڈ ملازمین کے پینڈنگ پنشن واجبات اور موجودہ اسٹاف کی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا جائے گا جو طویل عرصے سے التوا کا شکار ہیں۔

دوسری جانب، اس بڑی تجویز نے کے ڈی اے کے موجودہ ملازمین اور ملازم تنظیموں میں شدید تشویش اور بے چینی پیدا کر دی ہے، جن کا خدشہ ہے کہ مالی بحران کو جواز بنا کر اربوں روپے کی قیمتی ترین عوامی اراضی نجی مفادات کی نذر کی جا رہی ہے۔ ملازمین کے نمائندوں نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ زمین کے انتخاب، مارکیٹ ویلیوایشن کے تعین اور ڈویلپمنٹ کے مستقبل کے منصوبوں میں مکمل شفافیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ کرپشن کا راستہ روکا جا سکے۔ یہ سمری اب سندھ کے محکمہ لوکل گورنمنٹ کی حتمی منظوری کے لیے زیرِ غور ہے، اور اگر اسے کلیئرنس مل جاتی ہے تو یہ کراچی کی تاریخ کے سب سے بڑے لینڈ ڈویلپمنٹ پراجیکٹس میں سے ایک ہوگا۔

اپنا تبصرہ لکھیں