لاہور میں طالبہ کو سنسان گلی میں لے جا کر ہراساں کرنے والا رکشہ ڈرائیور گرفتار، پولیس کی بروقت کارروائی!

لاہور (ویب ڈیسک) 23 جون 2026

صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے گلشن اقبال میں پولیس نے ون فائیو (15) ہیلپ لائن پر موصول ہونے والی کال پر انتہائی زبردست اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے یونیورسٹی کی ایک طالبہ کو مبینہ طور پر اغوا کی کوشش اور ہراساں کرنے والے رکشہ ڈرائیور کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب متاثرہ طالبہ اپنے تعلیمی ادارے میں فائنل امتحان دینے کے لیے رکشے میں سوار ہوئی تھی، تاہم رکشہ ڈرائیور اسے مقررہ اور سیدھی منزل پر لے جانے کے بجائے بدنیتی کے تحت ایک انتہائی سنسان گلی میں لے گیا جہاں اس نے طالبہ کو ذہنی اور زبانی طور پر ہراساں کرنا شروع کر دیا۔

متاثرہ طالبہ نے پولیس کو دیے گئے اپنے ابتدائی بیان میں بتایا کہ سنسان گلی میں گاڑی مڑتے ہی وہ شدید خوفزدہ ہو گئی اور اس نے بارہا رکشہ ڈرائیور سے روتے ہوئے درخواست کی کہ اس کا مستقبل داؤ پر لگا ہے، اس لیے اسے امتحان کے لیے بروقت سینٹر پہنچایا جائے۔ طالبہ کے مطابق اس کی آہ و پکار پر ملزم نے مبینہ طور پر ایک انتہائی شرمناک شرط عائد کی اور کہا کہ اگر وہ امتحان ختم ہونے کے بعد اس کے ساتھ نجی طور پر باہر جانے کا وعدہ کرے گی، تب ہی وہ اسے امتحانی مرکز چھوڑے گا۔ طالبہ نے اس کڑے وقت میں انتہائی عقلمندی اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملزم کی شرط پر ہامی بھر لی تاکہ وہ بحفاظت امتحان دے سکے۔

مزید پڑھیں: منوڑہ کے سمندر میں نہاتے ہوئے 20 سالہ نوجوان ڈوب کر جاں بحق، لاش لائنز ایریا منتقل

پولیس حکام نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ طالبہ نے امتحانی مرکز پہنچ کر اپنا پرچہ مکمل کیا اور باہر آکر منصوبہ بندی کے تحت ملزم رکشہ ڈرائیور امجد کو دوبارہ اسی جگہ بلایا، اور ساتھ ہی نہایت خاموشی سے پولیس کی ہیلپ لائن 15 پر کال کر کے پوری صورتحال سے آگاہ کر دیا۔ اطلاع ملتے ہی گلشن اقبال تھانے کے مستعد اہلکار فوری طور پر موقع پر پہنچے اور جیسے ہی ملزم امجد لڑکی کو دوبارہ رکشے میں بٹھانے کی کوشش کر رہا تھا، پولیس نے اسے دھر لیا۔ پولیس نے واقعے کے حوالے سے طالبہ کے والد کی مدعیت میں سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے کیس مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں: کراچی کے فیملی پارک میں خواتین اور بچوں کو ہراساں کرنے والے 4 ملزمان گرفتار، شہریوں نے پٹائی کے بعد پولیس کے حوالے کر دیا!

ایس پی اقبال ٹاؤن سدرہ خان نے ملزم کی فوری اور کامیاب گرفتاری پر گلشن اقبال پولیس کی بہترین اور پیشہ ورانہ کارکردگی کو خوب سراہا ہے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ معاشرے میں خواتین، طالبات اور بچوں کو ہراساں یا بلیک میل کرنے والے بیمار ذہنیت کے حامل عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت سخت ترین قانونی کارروائی جاری رہے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صنفِ نازک کو غیر محفوظ بنانے والے ایسے جرائم پیشہ افراد کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں اور ایسے درندوں کی اصل جگہ صرف اور صرف جیل کی کال کوٹھڑی ہے۔

لاہور میں طالبہ کو سنسان گلی میں لے جا کر ہراساں کرنے والا رکشہ ڈرائیور گرفتار، پولیس کی بروقت کارروائی!“ ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ لکھیں