قطر کے سب سے بڑے ایل این جی پلانٹ میں قیامت خیز دھماکا: 13 افراد جاں بحق، متعدد پاکستانی بھی شامل!

کراچی: ویب ڈیسک : 23 جون، 2026

قطر کے صنعتی شہر راس لفان انڈسٹریل سٹی میں واقع دنیا کے سب سے بڑے اور اہم مائع قدرتی گیس (LNG) پلانٹس میں سے ایک میں ہونے والے ہولناک دھماکے نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ افسوسناک واقعہ بارزان گیس سپلائی مرکز میں اس وقت پیش آیا جب ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث طویل عرصے سے بند پڑے اس پلانٹ کو دوبارہ فعال کرنے کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔ حکام کے مطابق، جیسے ہی انجینئرز اور تکنیکی عملے نے سسٹم کو دوبارہ آن لائن کرنے کا عمل شروع کیا، ایک زوردار دھماکا ہوا جس نے پلک جھپکتے ہی پورے پلانٹ کو آگ کے شعلوں میں لپیٹ لیا۔ یہ آگ اتنی شدید تھی کہ اس نے دیکھتے ہی دیکھتے قریبی تنصیبات کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں وہاں کام کرنے والے ملازمین میں افراتفری مچ گئی۔

عرب میڈیا کی رپورٹس اور قطری حکام کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق، اس حادثے میں اب تک 13 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ 66 سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں پاکستانیوں سمیت بھارتی شہری بھی شامل ہیں، جن کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ زخمیوں کی فہرست انتہائی طویل ہے جس میں قطر، تنزانیہ، بھارت، پاکستان، گنی، نیپال، بنگلہ دیش، کینیا اور نائجیریا کے شہری شامل ہیں۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی سول ڈیفنس، فائر فائٹرز اور ہنگامی امدادی ٹیموں نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر ریسکیو آپریشن شروع کیا اور کئی گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پایا۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

قطر انرجی کی جانب سے جاری کردہ ایک ہنگامی پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ دھماکے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی تکنیکی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ ابتدائی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ دھماکا ایک سنگین تکنیکی خرابی کے باعث ہوا، تاہم حتمی رپورٹ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گی۔ کمپنی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس واقعے سے قطر کے برآمدی انفراسٹرکچر یا گیس کی عالمی سپلائی لائن پر کوئی براہِ راست اثر نہیں پڑا ہے اور راس لفان کی بندرگاہ اپنی معمول کی سرگرمیوں کے مطابق کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ متاثرین کے خاندانوں کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں اور جاں بحق ہونے والوں کی شناخت کے بعد ان کی میتوں کو آبائی ممالک بھجوانے کے لیے تمام تر سفارتی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

دنیا کے اہم ترین توانائی مراکز میں شمار ہونے والے راس لفان انڈسٹریل سٹی میں پیش آنے والے اس حادثے نے عالمی منڈیوں میں توانائی کی قیمتوں اور سپلائی کے حوالے سے شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ چونکہ قطر دنیا کے سب سے بڑے ایل این جی برآمد کنندگان میں شامل ہے، اس لیے اس دھماکے کی خبر سنتے ہی عالمی توانائی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال کا غلبہ نظر آ رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ قطر نے سپلائی معمول کے مطابق ہونے کا یقین دلایا ہے، لیکن اس طرح کے بڑے حادثات عالمی سطح پر توانائی کی حفاظت کے حوالے سے سوالات اٹھاتے ہیں۔ فی الحال دنیا بھر کی نظریں قطری حکام کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ پر جمی ہوئی ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کیا یہ محض ایک تکنیکی غلطی تھی یا اس کے پیچھے کوئی اور محرکات کارفرما ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں