نارووال (ویب ڈیسک) 28 جون 2026
پنجاب کے ضلع نارووال میں تھانہ صدر کے ماتحت گاؤں غازی وال میں قتل کی ایک انتہائی لرزہ خیز اور سفاکانہ واردات سامنے آئی ہے، جہاں ایک سنگدل شوہر نے مبینہ طور پر اپنی نوبیاہتا بیوی کو گلا دبا کر موت کے گھاٹ اتارنے کے بعد ثبوت مٹانے کی خاطر لاش کو آگ لگا دی۔ اس ہولناک واقعے نے پورے علاقے میں خوف و ہراس اور شدید غم و غصہ پھیلا دیا ہے۔
مقتولہ کے والدین کی مدعیت میں واقعے کا باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ایف آئی آر (FIR) کے متن کے مطابق، موضع مالوکے کی رہائشی ندا شاہین کی شادی محض 3 ماہ قبل حماد سہیل نامی شخص سے ہوئی تھی۔ تاہم، شادی کے چند ہی دنوں بعد ملزم حماد سہیل نے رنگ بدل لیا اور وہ اکثر و بیشتر معمولی باتوں پر ندا شاہین پر شدید تشدد کرتا اور اسے مار پیٹ کر گھر سے نکال دیتا تھا۔
ایف آئی آر کا تفصیلی متن:
مقتولہ کے اہلِ خانہ کے مطابق، گزشتہ روز ملزم حماد سہیل اپنی بیوی ندا شاہین سے بظاہر صلح صفائی کر کے اسے میکے سے واپس اپنے گھر لے کر آیا تھا، لیکن یہ صلح محض ایک بہانہ تھی۔ الصبح ملزم حماد سہیل نے اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر پہلے ندا شاہین پر وحشیانہ تشدد کیا اور پھر اس کا گلا دبا کر اسے بے دردی سے قتل کر دیا۔ سفاکی کی حد پار کرتے ہوئے ملزم نے جرم پر پردہ ڈالنے کے لیے مقتولہ کی لاش کو آگ لگا دی تاکہ قتل کو حادثے کا رنگ دیا جا سکے۔
پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق، اس بہیمانہ قتل کے پیچھے ملزم کی دوسری شادی کی خواہش تھی۔ ملزم حماد سہیل مقتولہ کو راستے سے ہٹا کر کسی دوسری لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا، جس کی وجہ سے وہ اکثر اپنی پہلی بیوی کو ذہنی و جسمانی اذیت کا نشانہ بناتا تھا۔ پولیس نے واقعے کی اطلاع ملتے ہی جائے وقوعہ سے جھلسی ہوئی لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم اور فرانزک تجزیے کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (DHQ) اسپتال منتقل کر دیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقدمے کی روشنی میں ملزم اور اس کے سہولت کار اہل خانہ کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور انہیں قانون کے مطابق سخت ترین سزا دلائی جائے گی۔
