آپریشن سندور سے جنتر منتر کے انقلاب تک: گودی میڈیا کا عبرت ناک تماشا اور زوال!


شیشے کے بند کمروں میں اے سی کی ٹھنڈی ہوا میں بیٹھ کر جھوٹ بیچنا اور حقیقت سے آنکھیں چرانا ایک ایسا ہنر ہے جو دہلی کے شاہی میڈیا نے پچھلے سالوں میں کمال درجے تک سیکھا ہے۔ مگر تاریخ کا ایک تلخ قانون ہے کہ سڑکوں کا شور ہمیشہ ایوانوں کے شیشے توڑ کر ہی دم لیتا ہے۔ آج نئی دہلی کی سڑکوں پر جو تماشا بپا ہے، اس نے ہندوستان کے ان نام نہاد صحافیوں کا مکروہ چہرہ بے نقاب کر دیا ہے جنہیں پوری دنیا اب ’گودی میڈیا‘ کے نام سے جانتی ہے۔

حال ہی میں جب نئی دہلی کے جنتر منتر اور پارلیمنٹ کے اردگرد ہزاروں طلبا اپنے تباہ شدہ مستقبل، پیپر لیک مافیا اور تعلیمی نظام کی تباہی کے خلاف سڑکوں پر نکلے، تو ان میڈیا چینلز (جیسےNDTV, ANI, آج تک، زی نیوز اور نیوز 18) کا کردار نہایت شرمناک رہا۔ پورے ایک ماہ تک ان چینلز نے اس تاریخی احتجاج کو اس طرح نظر انداز کیا جیسے وہ وجود ہی نہیں رکھتا۔ ان کے نزدیک اگر کیمرے کا رخ موڑ دیا جائے تو بھوک ہڑتال پر بیٹھے 59 سالہ سونم وانگچوک کا اغوا اور طلبا پر ہونے والا لاٹھی چارج غائب ہو جائے گا۔ اسٹوڈیو میں بیٹھے مہنگے ترین اینکرز گھنٹوں بیٹھ کر اسٹوڈیو وارز لڑتے رہے، ہر احتجاج کرنے والے نوجوان کو ’اینٹی نیشنل‘، ’اربن نکسل‘ یا کسی بیرونی سازش کا مہرہ قرار دیتے رہے تاکہ اپنے آقاوں کی خوشنودی حاصل کی جا سکے۔

مگر پروپیگنڈے کی یہ دیواریں زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتیں۔ جب پروپیگنڈے کا یہ فسانہ زمین پر اترا اور اصل عوام سے ٹکرایا، تو مناظر دیکھنے کے لائق تھے۔ جب زمینی رپورٹرز کوریج کے لیے پہنچے تو طلبا اور عوام نے انہیں گھیر لیا۔ طلبا نے ان کے ہاتھ میں پچاس پچاس روپے کے نوٹ تھماتے ہوئے طنزیہ انداز میں پوچھا: “مودی نے تم لوگوں کو ہماری مخالفت کے کتنے پیسے دیے ہیں؟ یہ لو پچاس روپے اور ہماری دلالی کر لو!” وہ اینکرز جو بارہ سال سے عوام پر حب الوطنی کے فتوے لگا رہے تھے، آج سڑکوں پر عوام کے غصے کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ان کے پاس اب اتنی ہمت بھی نہیں ہے کہ وہ خود اسٹوڈیو سے باہر نکل کر سڑکوں کا رخ کریں، اس لیے وہ اپنے جونیئر رپورٹرز کو عوام کے غصے کی بھٹی میں جھونک دیتے ہیں جبکہ خود محفوظ اے سی کمروں میں بیٹھے اب بھی وہی پرانی رٹ لگائے ہوئے ہیں۔

یہ میڈیا کا پہلا تماشا نہیں ہے۔ جب کبھی ملک کے اندر سنگین نوعیت کے بحران پیدا ہوتے ہیں اور حکومتی نااہلی کو چھپانے کی ضرورت پڑتی ہے، تو یہی اسٹوڈیوز کارٹون نما جنگی تھیٹر میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اینکرز جنگی وردیاں پہن کر، فرضی گرافکس کے ذریعے ماحول کو اس طرح گرماتے ہیں کہ صحافت کم اور کوئی سستا سرکس زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ لیکن جب ملک کے اندر اپنے ہی بچے پیپر لیک مافیا کے ہاتھوں پس رہے ہوں، پولیس کے بوٹوں تلے قومی پرچم روندا جا رہا ہو، اور دارالحکومت جنگ کا میدان بن چکا ہو، تو یہی میڈیا حکمرانوں کے نئے کپڑوں پر “واہ واہ” کرنے میں مصروف ہو جاتا ہے۔

پریس فریڈم انڈیکس میں ہندوستان کا 180 ممالک میں سے 157 ویں نمبر پر گِر جانا کوئی اتفاق نہیں ہے، بلکہ یہ اس کاسہ لیس صحافت کا منطقی انجام ہے۔ صورتحال اتنی سنگین ہو چکی ہے کہ اب دائیں بازو کے انفلوئنسرز بھی حکومت سے انسٹاگرام اور فیس بک بند کرنے کی بھیک مانگ رہے ہیں کیونکہ وہ سمجھ چکے ہیں کہ سوشل میڈیا کے الگورتھمز کو اسٹوڈیو کے بکاؤ مہمانوں کی طرح خریدنا ممکن نہیں۔

جب کوئی ریاست اپنے میڈیا کو پروپیگنڈے کا آلہ کار بنا لے، تو سڑکیں خود بخود نیا نیوز روم بن جاتی ہیں۔ آج گودی میڈیا کی ساکھ صفر ہو چکی ہے، اور ہندوستان کا نوجوان یہ پیغام دے رہا ہے کہ فاشزم کے یہ پالتو اینکرز جتنی مرضی لفاظی کر لیں، اب سچ کا گلا گھونٹنا ناممکن ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں