اینجلس سٹی میں ریسکیو آپریشن جاری؛ امدادی ٹیموں کو ملبے سے مزید افراد کے ملنے کی امید، شدید گرمی اور عمارت کا غیر مستحکم ڈھانچہ امدادی کارروائیوں میں بڑی رکاوٹ
ویب ڈیسک | 25 مئی 2026
فلپائن کے شہر اینجلس سٹی میں زیرِ تعمیر 9 منزلہ ہوٹل کے گرنے کے افسوسناک واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد 4 ہو گئی ہے، جبکہ 17 افراد تاحال ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق امدادی ٹیموں نے پیر کی صبح ملبے سے تین افراد کو نکالا جن میں سے دو کی موت کی تصدیق کر دی گئی ہے، جبکہ ایک اور شخص کو بچانے کی تمام تر کوششیں ناکام ثابت ہوئیں۔
اس سے قبل، حادثے کے فوراً بعد ایک ملائیشین سیاح کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی تھی جو عمارت کے ملبے کی زد میں آنے والے ایک قریبی ہوٹل میں موجود تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ لاپتا ہونے والے افراد میں زیادہ تر تعمیراتی مزدور شامل ہیں جو اتوار کی علی الصبح عمارت کے گرنے کے وقت وہاں موجود تھے۔
ریسکیو آپریشن کی پیچیدگیاں
اینجلس سٹی کے میئر کارمیلو لازاتن کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن کو تاحال ’ریسکیو مشن‘ ہی رکھا گیا ہے اور اسے ’لاشیں نکالنے کے آپریشن‘ میں تبدیل نہیں کیا گیا، کیونکہ حکام کو اب بھی ملبے تلے کسی کے زندہ ہونے کی امید ہے۔ تاہم، امدادی کارروائیاں انتہائی سست اور خطرناک ہیں۔
ریسکیو ٹیموں کو دو بڑی مشکلات کا سامنا ہے:
غیر مستحکم ڈھانچہ: کنکریٹ کے دیوہیکل سلیب اور مڑے ہوئے لوہے کے سریے انتہائی نازک انداز میں کھڑے ہیں، جس کی وجہ سے معمولی سی حرکت بھی پورے ملبے کے دوبارہ گرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی مشینری کے بجائے بیشتر کام ہاتھوں سے کیا جا رہا ہے۔
شدید گرمی: جھلسا دینے والی گرمی میں کام کرنا ریسکیو اہلکاروں اور ملبے تلے دبے افراد، دونوں کے لیے شدید خطرے کا باعث ہے۔
واقعے کا پسِ منظر
یہ عمارت بارانگے بالیباگو کے علاقے میں تعمیر کی جا رہی تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق، ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب شدید طوفانی بارشوں کے بعد اچانک ایک زور دار دھماکے جیسی آواز آئی اور نو منزلہ عمارت زمین بوس ہو گئی۔ حکام نے واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں، تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا یہ کسی قدرتی آفت کا نتیجہ تھا یا تعمیراتی ضوابط کی خلاف ورزی اور ناقص میٹریل کا شاخسانہ۔
فی الحال، پولیس اور فائر فائٹرز سمیت سیکڑوں امدادی کارکن 24 گھنٹے سے زائد وقت گزرنے کے باوجود زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں سرگرمِ عمل ہیں۔