
کشمیر پاکستان کے لیے محض نقشے پر موجود ایک خطہ نہیں بلکہ تاریخ، جغرافیہ، ثقافت اور مشترکہ جذبات سے جڑا ہوا خطہ ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ پاکستان کا تعلق نسلوں پر محیط ہے اور اسی لیے راولاکوٹ سمیت آزاد کشمیر کے مختلف شہروں میں پیدا ہونے والی حالیہ بدامنی نے پورے ملک میں تشویش پیدا کی۔ تاہم ان واقعات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ عوامی مطالبات، آئینی تنازع، احتجاج اور تشدد کے مختلف پہلوؤں کو الگ الگ دیکھا جائے۔ کشمیر کے عوام کے معاشی اور سیاسی مسائل اپنی جگہ موجود ہیں۔ بجلی، آٹے، روزگار، حکومتی اخراجات، سیاسی نمائندگی اور طرز حکمرانی جیسے معاملات پر آواز اٹھانا سیاسی عمل کا حصہ ہے۔ آزاد جموں و کشمیر میں قانون ساز اسمبلی، منتخب حکومت اور آئینی ادارے موجود ہیں جن کے ذریعے سیاسی مطالبات اٹھائے اور قانونی طریقہ کار کے تحت ان پر فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔ 12 مہاجر نشستوں کے معاملے پر 7 جون 2026 کو آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ کی رائے بھی اسی آئینی فریم ورک کو واضح کرتی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ اسمبلی کی 12 مہاجر نشستیں آئینی تحفظ رکھتی ہیں اور انہیں محض انتظامی فیصلے کے ذریعے ختم یا تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ کسی بھی تبدیلی کے لیے آئینی ترمیم کا باقاعدہ طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ آئینی معاملات کا حل عوامی مینڈیٹ، پارلیمانی بحث اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے ہوگا۔ یہاں احتجاج اور تشدد کے درمیان فرق بھی واضح رہنا چاہیے۔ اگر کسی احتجاج میں مسلح عناصر کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر فائرنگ کی گئی ہو تو اسے پرامن سیاسی احتجاج کے زمرے میں نہیں رکھا جا سکتا۔ سیاسی مطالبہ اپنی جگہ ایک حق ہے، لیکن مسلح حملہ اس حق کا حصہ نہیں بنتا۔ اسی طرح ریاستی اداروں کی کارروائی کا جائزہ بھی شواہد، قانون اور آزادانہ تحقیقات کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ JAAC کے حوالے سے بھی ایک اہم قانونی حقیقت موجود ہے۔ آزاد جموں و کشمیر حکومت نے 5 جون 2026 کو Joint Awami Action Committee کو Anti-Terrorism Act 2014 کے تحت First Schedule میں شامل کرتے ہوئے proscribed organisation قرار دیا۔ سرکاری نوٹیفکیشن میں تنظیم پر امن و سلامتی کو متاثر کرنے، عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنے اور انتشار پیدا کرنے جیسے الزامات عائد کیے گئے۔ یہ حکومت کا قانونی اقدام تھا، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیم Amnesty International نے اس اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور JAAC کو ایک grassroots movement قرار دیا جو معاشی اور سیاسی حقوق کے مطالبات کر رہی تھی۔ اس لیے صحافتی طور پر ضروری ہے کہ سرکاری الزام اور مخالف فریق کے مؤقف کو الگ الگ بیان کیا جائے۔ راولاکوٹ کے واقعات میں اس کے بعد تشدد کا پہلو مزید نمایاں ہوا۔ Associated Press کے مطابق حکام نے دعویٰ کیا کہ احتجاجی مظاہروں میں مسلح عناصر شامل ہوئے، سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ ہوئی اور سنائپرز سمیت جدید ہتھیار استعمال کیے گئے۔ حکام نے یہ بھی کہا کہ گرفتار کیے گئے دو افراد نے حملوں کے لیے مالی اور عسکری معاونت حاصل کرنے کے اعترافات کیے۔ یہ تمام نکات حکام کے دعووں اور جاری تفتیش سے متعلق ہیں، اس لیے انہیں حتمی عدالتی فیصلے کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا اس تشدد کے پیچھے کوئی بیرونی نیٹ ورک موجود تھا؟ اس حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے 26 جولائی کو دعویٰ کیا کہ ایک گرفتار ڈیجیٹل مارکیٹنگ سروس فراہم کنندہ کے ذریعے بھارتی آپریٹر سے رابطوں اور مالی لین دین کے شواہد سامنے آئے۔ ان کے مطابق تفتیش میں واٹس ایپ چیٹس اور بھارت سے ہونے والی ادائیگیوں کا ریکارڈ ملا، جبکہ گرفتار شخص نے مبینہ طور پر بتایا کہ بڑے پیمانے پر فروغ دیا جانے والا ڈیجیٹل مواد JAAC سے متعلق تھا اور اس مہم کو بھارت سے فنڈنگ حاصل ہوئی۔ وزیر اطلاعات نے اس سرگرمی کو بھارتی خفیہ ایجنسی RAW سے جوڑا۔ یہاں ایک اہم فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔ دستیاب عوامی شواہد کی بنیاد پر یہ کہنا درست ہے کہ پاکستانی حکومت نے بھارت اور RAW پر JAAC سے متعلق ڈیجیٹل پروپیگنڈا مہم کی پشت پناہی کا الزام عائد کیا ہے اور اس کے لیے گرفتار ڈیجیٹل آپریٹر، مبینہ بھارتی رابطوں، واٹس ایپ چیٹس اور مالی لین دین کو بطور شواہد پیش کیا ہے۔ تاہم اس بنیاد پر یہ کہنا کہ JAAC کی پوری تنظیم براہِ راست RAW کے زیر انتظام تھی یا اس کی قیادت کو باقاعدہ مالی و عسکری سرپرستی حاصل تھی، ایک الگ اور زیادہ بڑا دعویٰ ہوگا جس کے لیے مزید آزادانہ اور قابلِ تصدیق شواہد درکار ہیں۔ اسی طرح راولاکوٹ میں برآمد ہونے والے کسی بھی جدید ہتھیار کو محض اس کی ساخت یا ماڈل کی بنیاد پر بھارتی خفیہ نیٹ ورک سے جوڑ دینا بھی کافی ثبوت نہیں۔ کسی ہتھیار کا اصل ماخذ، سپلائی چین اور استعمال کرنے والے عناصر سے تعلق فرانزک اور تفتیشی شواہد سے ثابت ہونا ضروری ہے۔ یہی فرق ایک مضبوط صحافتی رپورٹ اور محض دعوے میں ہوتا ہے۔ راولاکوٹ کے واقعات کے بارے میں ایک دوسرا بیانیہ بھی سامنے آیا ہے۔ JAAC اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ریاستی کارروائی کو شہریوں کے خلاف طاقت کے استعمال کے طور پر پیش کیا، جبکہ بعض بین الاقوامی رپورٹس میں مظاہرین کی ہلاکتوں اور سکیورٹی فورسز کے استعمال شدہ طاقت پر سوالات اٹھائے گئے۔ دوسری طرف پاکستانی حکام نے مسلح عناصر، سنائپرز اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں کو واقعات کا اہم حصہ قرار دیا۔ اسی لیے راولاکوٹ کے واقعات کو صرف ایک وائرل ویڈیو یا چند سیکنڈ کی فوٹیج کی بنیاد پر سمجھنا کافی نہیں۔ مکمل تصویر کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ احتجاج سے پہلے کیا مطالبات تھے، مذاکرات اور آئینی راستے میں کیا پیش رفت ہوئی، کس مقام پر تشدد شروع ہوا، قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کے شواہد کیا ہیں، ہتھیار کہاں سے آئے، گرفتار افراد کے بیانات کی آزادانہ تصدیق ہوئی یا نہیں، اور ریاستی کارروائی کے دوران طاقت کے استعمال کے بارے میں کیا شواہد موجود ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کے معاشی اور سیاسی مطالبات کو محض بیرونی سازش کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ JAAC کی تحریک کے مطالبات میں بجلی کی قیمت، آٹے کی قیمت، حکومتی اخراجات، سیاسی نمائندگی اور دیگر انتظامی و معاشی مسائل شامل رہے ہیں۔ ان مطالبات کی موجودگی خود اس بات کا ثبوت ہے کہ مقامی شکایات ایک حقیقی سیاسی عنصر ہیں۔ اسی طرح کسی احتجاج میں مسلح عناصر کی موجودگی کی صورت میں اسے مکمل طور پر پرامن قرار دینا بھی دستیاب حکومتی دعووں اور سکیورٹی شواہد کو نظر انداز کرنا ہوگا۔ دونوں پہلوؤں کو ایک ساتھ دیکھنا ضروری ہے: عوامی شکایات حقیقی ہوسکتی ہیں اور تشدد میں مسلح عناصر بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ ایک حقیقت دوسری حقیقت کو خود بخود ختم نہیں کرتی۔ پاکستانی حکام کی جانب سے بھارت پر ڈیجیٹل مداخلت اور پروپیگنڈا مہم کی پشت پناہی کے الزامات بھی اسی وسیع تناظر میں سامنے آئے ہیں۔ لیکن اگر ان الزامات کو عالمی سطح پر قابل قبول ثبوت کے ساتھ پیش کرنا ہے تو گرفتار افراد کے بیانات، مالی لین دین، ڈیجیٹل فرانزک، بھارتی آپریٹرز کی شناخت، رقم کی منتقلی کے ریکارڈ اور دیگر شواہد کو شفاف طریقے سے سامنے لانا ہوگا۔ محض کسی تنظیم کے بیانیے کی بھارتی میڈیا میں کوریج اس بات کا قطعی ثبوت نہیں کہ وہ تنظیم بھارتی ایجنسی کے زیر انتظام ہے۔ کشمیر کے عوام کے لیے سیاسی راستہ موجود ہے۔ آزاد جموں و کشمیر میں قانون ساز اسمبلی، منتخب حکومت، عدالتیں اور دیگر آئینی ادارے موجود ہیں۔ 12 نشستوں کے معاملے پر سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی واضح کرچکا ہے کہ آئینی تبدیلی کا راستہ آئینی ترمیم، پارلیمانی عمل اور قانونی طریقہ کار سے گزرتا ہے۔ اس لیے راولاکوٹ کے واقعات کو محض “ریاست بمقابلہ عوام” یا صرف “بیرونی سازش” کے ایک جملے میں محدود کرنا دونوں صورتوں میں مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ ایک طرف حقیقی معاشی اور سیاسی شکایات موجود ہیں، دوسری طرف حکام مسلح عناصر، سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ اور بیرونی ڈیجیٹل معاونت کے شواہد اور الزامات سامنے رکھ رہے ہیں۔ ان تمام دعووں کی حتمی حیثیت کا تعین شفاف، قابل تصدیق اور آزادانہ تحقیقات سے ہونا چاہیے۔ کشمیر پاکستان کے لیے تاریخی اور جذباتی اہمیت رکھتا ہے۔ اسی لیے کشمیری عوام کے جائز مسائل کا حل، سیاسی نمائندگی، آئینی عمل اور قانون کی بالادستی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اسی کے ساتھ اگر کسی احتجاج میں مسلح عناصر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بناتے ہیں تو اس تشدد کی بھی تحقیقات اور قانونی کارروائی ضروری ہے۔ راولاکوٹ کے واقعات کا اصل سبق یہی ہے کہ کشمیر کے عوام کے حقوق اور ریاستی سلامتی کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے کے بجائے دونوں کو قانون اور آئین کے دائرے میں دیکھا جائے۔ عوامی مطالبات کا جواب سیاسی اور آئینی عمل سے دیا جائے، مسلح تشدد کی تحقیقات شواہد کی بنیاد پر کی جائیں، اور بیرونی مداخلت کے الزامات کو قابلِ تصدیق ثبوت کے ساتھ دنیا کے سامنے رکھا جائے۔ یہی وہ طریقہ ہے جس سے کشمیر کے عوام کے اعتماد، خطے کے امن اور ریاستی اداروں کی ساکھ تینوں کا تحفظ ممکن ہے۔
