An informative social awareness graphic representing personal privacy respect and digital ethics in society

ہمارے معاشرے میں ٹوہ” کا بڑھتا رجحان: ایک خاموش سماجی مسئلہ


آج کے جدید دور میں جہاں ٹیکنالوجی نے زندگی کو آسان بنایا ہے، وہیں بعض نئی سماجی عادات بھی جنم لے رہی ہیں جو معاشرتی اقدار کو متاثر کر رہی ہیں۔ انہی میں سے ایک “ٹوہ” کا بڑھتا رجحان بھی ہے۔ ٹوہ سے مراد دوسروں کے ذاتی معاملات میں بلاوجہ دلچسپی لینا، ہر بات کی ٹوہ لگانا، افواہوں کو پھیلانا اور لوگوں کی نجی زندگی میں مداخلت کرنا ہے۔ بدقسمتی سے یہ رویہ ہمارے معاشرے میں تیزی سے عام ہوتا جا رہا ہے، جس کے منفی اثرات فرد، خاندان اور پورے معاشرے پر مرتب ہو رہے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ دوسروں کی زندگیوں پر نظر رکھنے کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ کسی کے گھر کون آیا، کون کہاں گیا، کس نے کیا خریدا یا کس کی آمدنی کتنی ہے، ایسی باتیں غیر ضروری تجسس کو جنم دیتی ہیں۔ یہ رویہ صرف دیہات تک محدود نہیں بلکہ شہروں میں بھی سوشل میڈیا کی وجہ سے مزید بڑھ گیا ہے۔ لوگ دوسروں کی تصاویر، ویڈیوز اور ذاتی معلومات پر تبصرے کرتے ہیں اور بغیر تصدیق کے خبریں پھیلاتے ہیں۔

ٹوہ کے بڑھتے رجحان کی ایک بڑی وجہ بے مقصد مصروفیات اور مثبت سرگرمیوں کا فقدان بھی ہے۔ جب انسان اپنی زندگی کے بجائے دوسروں کی زندگیوں میں دلچسپی لینا شروع کر دیتا ہے تو حسد، بدگمانی اور غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں خاندانوں کے درمیان اختلافات، دوستیوں میں دوریاں اور معاشرتی بے اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔ آج ہر شخص اپنی زندگی کا ایک حصہ انٹرنیٹ پر شیئر کرتا ہے، جسے دیکھ کر بعض لوگ غیر ضروری تبصرے کرتے ہیں یا نجی معاملات میں مداخلت شروع کر دیتے ہیں۔ بعض اوقات معمولی سی بات بھی افواہ بن کر پھیل جاتی ہے اور کسی کی عزت، ساکھ یا ذہنی سکون کو شدید نقصان پہنچا دیتی ہے۔

اسلام بھی دوسروں کے عیب تلاش کرنے، تجسس کرنے اور غیبت سے سختی سے منع کرتا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ ایک دوسرے کے عیب نہ ٹٹولو۔ اس تعلیم کا مقصد معاشرے میں اعتماد، محبت اور احترام کو فروغ دینا ہے۔ اگر ہر شخص دوسروں کی نجی زندگی کا احترام کرے تو بہت سے سماجی مسائل خود بخود ختم ہو سکتے ہیں۔اس مسئلے کے حل کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی توجہ اپنی ذات کی اصلاح پر مرکوز کریں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی تربیت اس انداز میں کریں کہ وہ دوسروں کی نجی زندگی کا احترام کرنا سیکھیں۔ تعلیمی اداروں میں اخلاقی تعلیم کو فروغ دیا جائے اور میڈیا پر بھی ایسے پروگرام نشر کیے جائیں جو مثبت معاشرتی رویوں کو فروغ دیں۔

سوشل میڈیا استعمال کرتے وقت بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ کسی بھی خبر یا تصویر کو آگے بھیجنے سے پہلے اس کی حقیقت جانچنا ضروری ہے۔ دوسروں کی نجی معلومات یا تصاویر ان کی اجازت کے بغیر شیئر کرنا نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ بعض اوقات قانونی جرم بھی ہو سکتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ ایک مہذب معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں افراد ایک دوسرے کی عزت، رازداری اور آزادی کا احترام کریں۔ اگر ہم دوسروں کی زندگیوں میں غیر ضروری مداخلت کرنے کے بجائے اپنی اصلاح، تعلیم، محنت اور مثبت سرگرمیوں پر توجہ دیں تو ہمارا معاشرہ زیادہ پرامن، بااعتماد اور ترقی یافتہ بن سکتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ حقیقی کامیابی دوسروں کی زندگیوں میں جھانکنے میں نہیں بلکہ اپنی شخصیت کو بہتر بنانے میں ہے۔

معاشرے کی بہتری کا آغاز ہر فرد اپنی ذات سے کرتا ہے۔ آئیے عہد کریں کہ دوسروں کی نجی زندگی کا احترام کریں گے، افواہوں سے بچیں گے اور مثبت سوچ کے ساتھ ایک بااخلاق اور مہذب معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں.

اپنا تبصرہ لکھیں