سرگودھا (ویب ڈیسک) 24 جون 2026
سرگودھا میں 7 سالہ معصوم بچی منتہیٰ زہرہ کے ساتھ مبینہ طور پر وحشیانہ زیادتی اور پھر اسے بے دردی سے قتل کرنے والا مرکزی ملزم ارسلان پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا ہے۔ دوسری جماعت کی طالبہ، ننھی منتہیٰ چند روز قبل اپنے گھر کے قریب دکان پر کھانے پینے کی چیز لینے گئی تھی، جہاں دکان پر کام کرنے والے درندہ صفت ملازم نے اسے ورغلا کر دکان کے اوپر بنے کمرے میں ہوس کا نشانہ بنایا اور بعد میں اس کی بے جان لاش وہاں چھوڑ دی۔ اس دل دہلا دینے والے واقعے نے پورے علاقے میں کہرام مچا دیا تھا اور شہریوں میں شدید غم و غصہ پھیل گیا تھا۔
واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ڈی پی او سرگودھا صہیب اشرف کی خصوصی ہدایت پر ایک 6 رکنی تفتیشی ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔ مقتولہ کے والد کی مدعیت میں تھانہ سٹی میں قتل اور زیادتی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے پولیس نے دکان کے مالک حنیف، اس کے بیٹے سمیت 5 مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر تفتیش کا دائرہ وسیع کیا تھا۔ اسی دوران کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (CCD) سرگودھا کی ٹیم مرکزی ملزم ارسلان کو آلہِ قتل کی نشاندہی اور برآمدگی کے لیے تھانہ جھال چکیاں کے علاقے میں لے جا رہی تھی کہ وہاں پہلے سے موجود اس کے مسلح ساتھیوں نے پولیس ٹیم کو دیکھتے ہی اندھا دھند فائرنگ کر دی۔
پولیس حکام کے مطابق، سی سی ڈی ٹیم اور ملزمان کے درمیان ہونے والے اس شدید مبینہ مقابلے کے دوران مرکزی ملزم ارسلان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ یا پولیس کی جوابی کارروائی میں ہلاک ہو گیا، جبکہ اس کے دیگر ساتھی رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ پولیس نے مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر علاقے میں ناکہ بندی کر دی ہے۔
دوسری جانب، مقتولہ منتہیٰ کے والدین اپنی لاڈلی بیٹی کی ناگہانی موت پر غم سے نڈھال ہیں اور پورے علاقے کی فضا سوگوار ہے۔ رات گئے معصوم کلی کو نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد سرگودھا کے مرکزی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ جنازے میں شہریوں، رشتہ داروں اور سوگواران کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی، جہاں ہر آنکھ نم تھی اور ہر شخص اس معصوم بچی کے بے رحمانہ قتل پر شدید رنجیدہ اور افسردہ دکھائی دے رہا تھا۔
