
سندھ میں گزشتہ چند برسوں کے دوران ہونے والے مختلف احتجاج بظاہر الگ الگ مسائل سے متعلق ہیں، لیکن ان سب کے پیچھے ایک مشترک سوال موجود ہے کہ کیا شہری اپنے بنیادی حقوق، میرٹ اور انصاف کے لیے اداروں پر بھروسہ کر سکتے ہیں؟
گریجویشن کیٹیگری اسکریننگ ٹیسٹ، سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحانات اور پریا کماری سمیت لاپتہ بچوں کی بازیابی کے لیے ہونے والی جدوجہد اسی بڑے سوال کی مختلف شکلیں ہیں۔ ایک روزگار سے متعلق ہے، دوسرا سرکاری بھرتی کے امتحانی نظام سے اور تیسرا قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق سے۔ مگر تینوں معاملات میں شہری شفافیت، جواب دہی اور مؤثر ادارہ جاتی نظام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
اسی تناظر میں بھارت میں 2024-2025 کے NEET-UG امتحانی بحران کے دوران ہونے والے طلبہ احتجاج ایک اہم حوالہ بنتے ہیں۔ مبینہ پرچہ افشا، گریس مارکس اور امتحانی عمل میں بے ضابطگیوں کے الزامات نے لاکھوں طلبہ اور ان کے خاندانوں میں بے چینی پیدا کی۔ احتجاج صرف نئی دہلی کے جنتر منتر تک محدود نہیں رہے بلکہ دہلی یونیورسٹی، پٹنہ اور بھارت کی دیگر ریاستوں کے دارالحکومتوں سمیت مختلف مقامات تک پھیل گئے۔ معاملہ سڑکوں پر احتجاج سے عدالتوں، پارلیمان اور تحقیقاتی اداروں تک پہنچا اور محض ایک امتحان کے انعقاد سے بڑھ کر امتحانی نظام کی شفافیت اور حکومتی جواب دہی پر وسیع بحث میں تبدیل ہوگیا۔
یہی بنیادی سوال سندھ میں بھی ابھر رہا ہے۔
سندھ حکومت کی جانب سے بی پی ایس 5 سے 15 تک کی آسامیوں کے لیے ٹیسٹنگ کے عمل میں لاکھوں امیدواروں نے حصہ لیا۔ گریجویشن کیٹیگری کے اسکریننگ ٹیسٹ کے بعد بڑی تعداد میں امیدواروں کی ناکامی اور پاسنگ مارکس کے معیار پر اعتراضات نے احتجاج کو جنم دیا۔ امیدواروں نے ’’ایک سندھ، ایک پالیسی‘‘ اور ’’ایک سندھ، ایک میرٹ‘‘ جیسے نعرے بلند کیے۔
ان کا مطالبہ صرف پاسنگ مارکس میں کمی تک محدود نہیں تھا۔ امیدوار یکساں معیار، سابقہ اسکریننگ مراحل میں کامیاب افراد کے تقرری خطوط، عمر میں رعایت، ضلع وار میرٹ لسٹوں کی اشاعت اور نتائج کی شفاف وضاحت چاہتے رہے۔
مسلسل احتجاج کے بعد پاسنگ مارکس میں تبدیلیاں کی گئیں اور مختلف آسامیوں کے تقرری خطوط بھی مرحلہ وار جاری ہوئے۔ لیکن احتجاج مکمل طور پر ختم نہ ہو سکا۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ بعد میں معیار تبدیل کرنا فوری انتظامی حل تو ہوسکتا ہے، مگر مستقل حل نہیں۔
مستقل حل ایسا بھرتی نظام ہے جس کے اصول امتحان سے پہلے واضح ہوں، پورے صوبے میں یکساں طور پر نافذ ہوں اور امیدوار کو اپنے حق کے لیے سڑک پر آنے کی ضرورت نہ پڑے۔
سندھ پبلک سروس کمیشن کا معاملہ اس سے بھی زیادہ حساس ہے کیونکہ یہاں سوال صرف ایک امتحان کا نہیں بلکہ صوبے کے انتظامی ڈھانچے میں داخل ہونے والی پوری نسل کے مستقبل کا ہے۔
گزشتہ برسوں میں ایس پی ایس سی کو امتحانات، انتظامی تاخیر، شفافیت اور میرٹ سے متعلق مختلف تنازعات کا سامنا رہا۔ 2021 میں سندھ ہائی کورٹ کے حیدرآباد بینچ کی کارروائی کے نتیجے میں کمیشن کے امتحانی عمل کو بھی تعطل کا سامنا کرنا پڑا، جس سے ان امیدواروں کی مشکلات بڑھیں جو پہلے ہی عمر کی حد اور طویل امتحانی عمل کے دباؤ میں تھے۔
بعد ازاں کمیشن نے ڈیجیٹل سہولیات، امیدواروں کے پروفائل ڈیش بورڈ اور دیگر آن لائن اقدامات کے ذریعے نظام کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ تاہم امیدواروں کے مطالبات اب بھی واضح ہیں کہ امتحانات کا باقاعدہ شیڈول، نتائج کی قابلِ تصدیق تفصیلات، او ایم آر شیٹس کی تصدیق اور شکایات کے ازالے کا مؤثر نظام۔
یہاں ایک بنیادی اصول سمجھنا ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی شفافیت کی ضمانت نہیں، صرف اس کا ذریعہ ہے۔ شفافیت اس وقت معنی رکھتی ہے جب امیدوار کو معلوم ہو کہ امتحان کب ہوگا، نتیجہ کیسے تیار ہوا، نمبر کیسے جانچے گئے اور اعتراض کی صورت میں آزادانہ تصدیق کا راستہ کیا ہے۔
پریا کماری کا معاملہ اس بحث کو ایک زیادہ انسانی سطح پر لے جاتا ہے۔
سات سالہ پریا کماری 19 اگست 2021 کو یوم عاشور کے موقع پر سکھر کے قریب سنگرار سے لاپتہ ہوئی۔ کئی برس گزرنے کے باوجود اس کی بازیابی نہ ہونا سندھ کے لیے ایک مسلسل سوال ہے۔ تحقیقات اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں کی تشکیل کے باوجود خاندان کو وہ جواب نہیں ملا جس کا وہ برسوں سے انتظار کر رہا ہے۔
پریا کماری کا معاملہ اب صرف ایک بچے کی گمشدگی تک محدود نہیں رہا۔ سندھ کے مختلف احتجاجوں میں دیگر لاپتہ بچوں کے خاندانوں نے بھی اپنے مقدمات اٹھائے ہیں۔ بابرلو اور دیگر مقامات پر ہونے والی احتجاجی سرگرمیوں نے اس مسئلے کو وسیع تر عوامی بحث کا حصہ بنایا۔
یہاں سوال صرف پولیس کارروائی یا احتجاج کے دوران پیدا ہونے والی کشیدگی کا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر کسی خاندان کو اپنے لاپتہ بچے کی بازیابی کے لیے بار بار سڑک پر آنا پڑے تو حکومتی اداروں کی کارکردگی پر سوال کیوں نہ اٹھے؟
یہی وہ مقام ہے جہاں سندھ کے مختلف احتجاج ایک دوسرے سے جڑتے ہیں۔
جی ایس ٹی کے امیدوار کہتے ہیں کہ میرٹ پورے سندھ میں یکساں ہونا چاہیے۔ ایس پی ایس سی کے امیدوار شفاف، بروقت اور قابلِ تصدیق امتحانی نظام چاہتے ہیں۔ لاپتہ بچوں کے خاندان واضح پیش رفت اور جواب دہی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
بظاہر یہ تین مختلف مسائل ہیں، مگر ان کے پیچھے ایک ہی بنیادی مطالبہ ہے: شہریوں کو ایسا نظام چاہیے جس میں فیصلے واضح اصولوں کے تحت ہوں اور ادارے اپنے اقدامات کے لیے جواب دہ ہوں۔
بھارت کے 2024-2025 NEET-UG بحران سے یہی سبق سامنے آتا ہے کہ جب کسی امتحانی نظام پر سوال اٹھیں تو احتجاج کسی ایک مقام تک محدود نہیں رہتا۔ دہلی، پٹنہ اور دیگر شہروں میں طلبہ کی آوازیں بالآخر عدالتوں، پارلیمان اور قومی سطح کی بحث تک پہنچیں۔ اس لیے ’’جنتر منتر‘‘ یہاں کسی مخصوص مقام کا نام نہیں بلکہ ایک علامت ہے کہ وہ مقام جہاں شہری اپنے مطالبات کو نظرانداز کیے جانے کے بعد عوامی سطح پر سامنے لاتے ہیں۔
سندھ میں بھی یہ ’’جنتر منتر‘‘ کسی ایک جگہ موجود نہیں۔ کبھی پریس کلب کے باہر، کبھی کسی سرکاری دفتر کے سامنے، کبھی ہائی وے پر اور کبھی سوشل میڈیا کی ٹائم لائن پر۔
اب اصل امتحان احتجاج کرنے والوں کا نہیں، اداروں کا ہے۔
اگر بھرتی کے اصول غیر واضح رہیں، امتحانات بار بار تاخیر کا شکار ہوں اور لاپتہ بچوں کے خاندان برسوں تک جواب کے منتظر رہیں تو احتجاج ختم ہونے کے باوجود بنیادی مسائل ختم نہیں ہوں گے۔
لیکن اگر سندھ حکومت میرٹ کے واضح اور یکساں اصول، امتحانات کے مقررہ شیڈول، نتائج کی قابلِ تصدیق تفصیلات، شفاف بھرتیوں، لاپتہ بچوں کے مقدمات میں قابلِ پیمائش پیش رفت اور پرامن احتجاج کے حق کے احترام کو ادارہ جاتی پالیسی بناتی ہے تو یہی احتجاجی قوت اصلاح کا نقطۂ آغاز بن سکتی ہے۔
سندھ کے نوجوان شاید کسی غیر معمولی رعایت کا مطالبہ نہیں کر رہے۔ ان کا مطالبہ بنیادی ہے کہ میرٹ واضح ہو، امتحان شفاف ہو، قانون سب کے لیے برابر ہو اور حکومت اپنے فیصلوں کے لیے جواب دہ ہو۔
سوال اب یہ نہیں کہ سندھ میں احتجاج کیوں ہو رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا سندھ اپنے ’’جنتر منتر لمحے‘‘ پر کھڑا ہے؟
اور اگر ایسا ہے تو کیا یہ لمحہ صرف احتجاج کا ہوگا، یا ادارہ جاتی اصلاح کا بھی؟
کسی ایک جگہ موجود نہیں۔ کبھی پریس کلب کے باہر، کبھی کسی سرکاری دفتر کے سامنے، کبھی ہائی وے پر اور کبھی سوشل میڈیا کی ٹائم لائن پر۔
اب اصل امتحان احتجاج کرنے والوں کا نہیں، اداروں کا ہے۔
اگر بھرتی کے اصول غیر واضح رہیں، امتحانات بار بار تاخیر کا شکار ہوں اور لاپتہ بچوں کے خاندان برسوں تک جواب کے منتظر رہیں تو احتجاج ختم ہونے کے باوجود بنیادی مسائل ختم نہیں ہوں گے۔
لیکن اگر سندھ حکومت میرٹ کے واضح اور یکساں اصول، امتحانات کے مقررہ شیڈول، نتائج کی قابلِ تصدیق تفصیلات، شفاف بھرتیوں، لاپتہ بچوں کے مقدمات میں قابلِ پیمائش پیش رفت اور پرامن احتجاج کے حق کے احترام کو ادارہ جاتی پالیسی بناتی ہے تو یہی احتجاجی قوت اصلاح کا نقطۂ آغاز بن سکتی ہے۔
سندھ کے نوجوان شاید کسی غیر معمولی رعایت کا مطالبہ نہیں کر رہے۔ ان کا مطالبہ بنیادی ہے کہ میرٹ واضح ہو، امتحان شفاف ہو، قانون سب کے لیے برابر ہو اور حکومت اپنے فیصلوں کے لیے جواب دہ ہو۔
سوال اب یہ نہیں کہ سندھ میں احتجاج کیوں ہو رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا سندھ اپنے ’’جنتر منتر لمحے‘‘ پر کھڑا ہے؟
اور اگر ایسا ہے تو کیا یہ لمحہ صرف احتجاج کا ہوگا، یا ادارہ جاتی اصلاح کا بھی؟
