سندھ میں بارشوں کی ہنگامی صورتحال اور انتظامی چیلنجز: پیشگی منصوبہ بندی کی ضرورت.

سندھ میں حالیہ موسلا دھار بارشوں نے ایک بار پھر یہ سوال نمایاں کر دیا ہے کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی اور مؤثر انتظامی تیاری کس حد تک موجود ہے۔ اگرچہ محکمۂ موسمیات اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے بارشوں کے امکانات کے بارے میں پیشگی انتباہات جاری کیے گئے تھے، تاہم متعدد علاقوں میں صورتحال نے اس تاثر کو تقویت دی کہ بروقت حفاظتی اقدامات مطلوبہ سطح پر نہیں کیے جا سکے۔

حیدرآباد، عمرکوٹ اور سندھ کے دیگر نشیبی علاقوں میں سڑکوں پر پانی جمع ہونے، نکاسیٔ آب کے نظام کی ناکامی، بجلی کی فراہمی میں طویل تعطل اور شہری زندگی کے متاثر ہونے نے انتظامی استعداد پر کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو نقل مکانی، کاروباری سرگرمیوں میں تعطل اور روزمرہ زندگی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ متعدد مقامات پر بنیادی شہری سہولیات بھی متاثر ہوئیں۔

قدرتی آفات کو مکمل طور پر روکا نہیں جا سکتا، لیکن ان کے اثرات کو مؤثر منصوبہ بندی، بروقت اقدامات اور ادارہ جاتی تیاری کے ذریعے نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ اگر موسم سے متعلق پیشگی اطلاعات دستیاب ہوں تو متعلقہ محکموں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ نکاسیٔ آب کے نظام کو فعال بنایا جائے، حساس علاقوں کی نشاندہی کی جائے، ہنگامی مشینری اور امدادی ٹیموں کو متحرک رکھا جائے اور عوام کو بروقت رہنمائی فراہم کی جائے۔

حالیہ صورتحال کے بعد عمرکوٹ کے ٹاؤن میونسپل آفیسر (TMO) کی معطلی ایک انتظامی فیصلہ ضرور ہے، تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا صرف ایک افسر کے خلاف کارروائی وسیع تر انتظامی خامیوں کا مؤثر حل ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر نظامی کمزوریاں، ناقص منصوبہ بندی یا مختلف اداروں کے درمیان رابطے کا فقدان موجود ہو تو ان کا جائزہ لینا اور اصلاحات متعارف کرانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ عوامی اعتماد اسی وقت بحال ہو سکتا ہے جب احتساب کے ساتھ ساتھ ادارہ جاتی اصلاحات بھی نظر آئیں۔

کسی بھی جمہوری حکومت کی کامیابی کا پیمانہ صرف ہنگامی صورتحال کے بعد امدادی سرگرمیاں نہیں بلکہ آفت آنے سے پہلے مؤثر تیاری، بروقت فیصلے اور مربوط حکمت عملی ہوتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر سندھ جیسے صوبے میں بارشوں، شہری سیلاب اور دیگر موسمی خطرات سے نمٹنے کے لیے طویل المدتی انفراسٹرکچر، جدید ڈرینیج سسٹم، مقامی حکومتوں کی استعداد میں اضافہ اور واضح ہنگامی لائحۂ عمل ناگزیر ہو چکا ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ بارشوں کے ہر موسم سے پہلے جامع تیاری، شفاف احتساب اور مؤثر بین الادارہ جاتی رابطے کو یقینی بنایا جائے۔ عوام کی توقعات صرف حادثات کے بعد بیانات یا انفرادی کارروائیوں تک محدود نہیں بلکہ وہ ایک ایسے انتظامی نظام کی خواہاں ہیں جو پیشگی منصوبہ بندی، بروقت عمل درآمد اور مؤثر عوامی خدمت کی بنیاد پر قدرتی آفات کے اثرات کو کم سے کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ یہی طرزِ حکمرانی مستقبل میں انسانی جانوں، عوامی املاک اور شہری انفراسٹرکچر کے بہتر تحفظ کی ضمانت بن سکتا ہے۔
تحریر: علیزہ عابد عارفین.

اپنا تبصرہ لکھیں