بھوک کے کنویں اور نسلِ نو کا غضب: مودی کے ’وشوا گرو‘ کا مکر و فریب!

جب ملک کا وزیراعظم مودی بلند بانگ دعوے کرتا ہو کہ اکیسویں صدی ہندوستان کی ہے، جہاں چاند پر ترنگے کے جھنڈے گاڑھنے کے خواب بیچے جاتے ہوں، وہاں زمین کی حقیقت یہ ہے کہ غریب بچوں کے منہ سے روٹی کا نوالہ بھی چھین کر کرپشن کی تجوریاں بھری جا رہی ہیں۔ ریاست جب اپنے ہی بچوں کے مستقبل، ان کے پیٹ اور ان کے خوابوں کی قاتل بن جائے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ فطرت کے قانون کے تحت اس فاشسٹ نظام کا زوال اب دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ آئیے اتر پردیش کے ضلع سیتا پورکے ایک سرکاری پرائمری اسکول کے مڈ ڈے میل کی اس ہولناک تصویر پر نظر ڈالتے ہیں، جو ہندوتوا سرکار کی کھوکھلی ترقی کے تمام فریبوں کو ننگا کرنے کے لیے کافی ہے۔ ذرا تصور کیجیے اس منظر کا: پانی میں تیرتے ہوئے چند نام نہاد سبزیاں اور ان کے ساتھ کوئلے کی طرح جلی ہوئی روٹیاں! یہ ہے وہ کھانا جو غریب ملک کے نونہالانِ وطن، معصوم بچوں کو دیا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس ملک کی جیلوں میں قید مجرموں کو بھی اس سے بہتر اور صحت بخش خوراک ملتی ہے۔ جہاں ایک طرف حکومتی وزراء اور کارپوریٹ آقا عیاشیوں میں غرق ہیں، وہیں دوسری طرف ملک کے مستقبل یعنی ان بچوں کی تھالیوں میں خاک اور راکھ ڈالی جا رہی ہے۔ یہ المیہ صرف سیتا پورکے ایک اسکول کا نہیں ہے؛ یہ اس سوچی سمجی اور منظم بدعنوانی کا تسلسل ہے جو مودی سرکار کے دورِ اقتدار میں پروان چڑھی ہے۔ تعلیم، صحت اور فلاحی اداروں کے لیے مختص کیے جانے والے اربوں روپے کے فنڈز کہاں غائب ہو جاتے ہیں؟ وہ فنڈز جو نوجوان نسل اور غریب طلبا کے لیے ریزرو ہوتے ہیں، وہ حکمران جماعت کی انتخابی مہموں، اشتہار بازی، اور ان کے کرپٹ سیاسی اتحادیوں کی تجوریوں کی نذر ہو جاتے ہیں۔ ریاست کا یہ رویہ اس بات کا غماز ہے کہ اس فاشسٹ سرکار کو ہندوستان کے یوتھ سے کوئی محبت نہیں ہے۔ ان کے لیے نوجوان یا تو ووٹ دینے کی مشین ہیں یا پھر سڑکوں پر لاٹھیاں کھانے کے لیے ایک سستا ہدف! یہی وجہ ہے کہ آج ہندوستان کی نسلِ نو میں بی جے پی اور مودی کے خلاف نفرت کی آگ اس قدر شدت سے بھڑک اٹھی ہے کہ حکمران طبقے کے حواس باختہ ہو چکے ہیں۔ یہ وہی نسل ہے جو کل تک سوشل میڈیا اور پروپیگنڈا سیلز کے فریب میں جکڑی ہوئی تھی، مگر اب جب وہ سڑکوں پر اترتی ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا تعلیمی نظام پہلے ہی پیپر لیک مافیا کی بھینٹ چڑھ چکا ہے، ان کے جاب کے امتحانات بدعنوانی کا شکار ہو چکے ہیں، اور اب ان کے چھوٹے بچوں کو اسکولوں میں زہر آلود اور جلا ہوا کھانا کھلایا جا رہا ہے۔ جب ایک پوری نسل کو یہ احساس ہو جائے کہ ان کا ریاست کے ساتھ تعلق صرف استحصال اور دھوکے پر مبنی ہے، تو ان کی آنکھوں سے فاشزم کا سارا طلسم ٹوٹ جاتا ہے۔ آج مودی سرکار تیزی سے اپنے روایتی یوتھ ووٹرز کو کھو رہی ہے۔ دہلی کے جنتر منتر سے لے کر ملک کی دیگر یونیورسٹیوں تک، نوجوانوں کا یہ ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر اس بات کا اعلان کر رہا ہے کہ اب جرأتِ انکار جاگ چکی ہے۔ اگر اس بحران کو ایک بڑے اسٹریٹجک تناظر اور تاریخی پس منظر میں دیکھا جائے، تو یہ واضح ہوتا ہے کہ مودی کا یہ پورا ماڈل محض ایک سرکس ہے۔ ماضی کے تاریخی واقعات گواہ ہیں کہ جب بھی دہلی کے حکمران اپنی اندرونی معاشی بدحالی، مہنگائی، بے روزگاری اور فکری دیوالیہ پن کو چھپانے میں ناکام ہوتے ہیں، تو وہ عوام کی بنیادی ضرورتوں کو نظر انداز کر کے جنگی جنون اور نفرت کی سیاست کو ہوا دیتے ہیں۔ لیکن اب اس پروپیگنڈا وار کے پردے چاک ہو چکے ہیں۔ پریس فریڈم انڈیکس میں 157 ویں پوزیشن پر پہنچنے والا ملک، جہاں میڈیا صرف حکومتی کاسہ لیسی کرتا ہو، اب زمینی حقائق کو زیادہ دیر نہیں چھپا سکتا۔ سیتا پورکی اس جلی ہوئی روٹی اور پانی والی دال نے اس ’وشوا گرو‘ کے منہ پر وہ طمانچہ مارا ہے جس کی گونج دنیا بھر کے سفارت خانوں اور عالمی فورمز پر سنائی دے رہی ہے۔ یہ وقت صرف تماشا دیکھنے کا نہیں ہے، بلکہ اس بات کو سمجھنے کا ہے کہ جب ریاست اپنے بچوں کو بھوکا رکھے اور ان کے حقوق پر ڈاکو بن بیٹھے، تو وہ ریاست اندر سے کھوکھلی ہو چکی ہوتی ہے۔ مودی سرکار کے یہ فاشسٹ ہتھکنڈے، یہ کرپٹ فنڈنگ ماڈلز، اور یہ عوام دشمن پالیسیاں اب اپنے انجام کو پہنچ رہی ہیں۔ ہندوستان کی بیدار نسل اب یہ جان چکی ہے کہ ان کے روشن مستقبل کا واحد راستہ اس ظالمانہ نظام کا مکمل بائیکاٹ ہے۔ جب بچے بھوک سے بلکیں اور حکمران محلات میں عیش کریں، تو تاریخ کا یہ فیصلہ اٹل ہوتا ہے کہ ایسے تختوں کو راکھ ہونا ہی پڑتا ہے!

اپنا تبصرہ لکھیں