نابالغ 14 سالہ بچی سے 4 سال تک مسلسل جنسی زیادتی کرنیوالے 15 درندوں‌کو 188 سال قید کی عبرتناک سزا

لندن/بریڈ فورڈ | 3 جون 2026

برطانیہ کی تاریخ کے ایک انتہائی گھناؤنے اور انسانیت سوز واقعے کا فیصلہ سامنے آ گیا ہے، جس نے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بریڈ فورڈ میں 15 سفاک ملزمان کو ایک کم سن لڑکی کو 4 سال تک مسلسل جنسی زیادتی اور استحصال کا نشانہ بنانے کے جرم میں مجموعی طور پر 188 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ افسوسناک واقعات 2007 سے 2011 کے درمیان پیش آئے، جس میں ملزمان نے ایک 14 سالہ بچی کی مجبوریوں اور کم عمری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے وحشیانہ تشدد اور جنسی استحصال کا نشانہ بنایا۔

کیس کی تفصیلات اور پس منظر
ویسٹ یارکشائر پولیس کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، متاثرہ بچی، جس کی عمر اس وقت 14 سے 18 سال کے درمیان تھی، کو ایک منظم گینگ کی جانب سے نشانہ بنایا جاتا رہا۔ یہ سلسلہ 4 سال تک جاری رہا، لیکن 2015 تک یہ گینگ قانون کی نظروں سے بچا رہا۔ 2015 میں پولیس نے پرانے “مسنگ پرسن” ریکارڈز اور بچوں کے استحصال سے متعلق فائلوں کا دوبارہ جائزہ لینا شروع کیا، جس سے معلوم ہوا کہ مذکورہ بچی ان سالوں کے دوران متعدد بار گھر سے لاپتا ہوئی تھی۔

پولیس نے جب اس وقت کی متاثرہ لڑکی سے (جو اب ادھیڑ عمر خاتون ہے) رابطہ کیا، تو اس نے انکشاف کیا کہ اسے گینگ کے لوگ اغوا کر کے بار بار زیادتی کا نشانہ بناتے تھے۔ اس انکشاف کے بعد فروری 2016 میں باضابطہ تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

تحقیقات اور عدالتی کارروائی
یہ ایک انتہائی پیچیدہ اور طویل تفتیش تھی، کیونکہ جرائم کئی سال پرانے تھے۔ تفتیش کاروں نے برسوں پرانے موبائل فون ڈیٹا، پولیس ریکارڈز اور گواہوں کے بیانات کو یکجا کر کے ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد اکٹھے کیے۔ ملزمان کی تعداد زیادہ ہونے اور جرائم کی نوعیت مختلف ہونے کی وجہ سے مقدمے کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا اور گزشتہ دو برسوں کے دوران متعدد الگ الگ ٹرائلز منعقد کیے گئے۔ شفافیت برقرار رکھنے کے لیے عدالت نے عدالتی کارروائی کے دوران رپورٹنگ پر پابندی عائد رکھی تھی، جسے اب سزاؤں کے اعلان کے بعد ختم کر دیا گیا ہے۔

متاثرہ خاتون کا بیان
فیصلے کے بعد متاثرہ خاتون نے اپنے بیان میں کہا کہ ان واقعات نے ان کے بچپن اور نوجوانی کے دور کو تاریک کر دیا اور یہ زخم زندگی بھر ان کے ساتھ رہیں گے۔ بریڈفورڈ پولیس کی سینئر تفتیشی افسر وکی گرین بینک نے متاثرہ خاتون کی ہمت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی استقامت نے ہی ان درندوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے میں مدد دی۔

ملزمان، جرائم اور سزاؤں کی تفصیلات
عدالت نے تمام 15 ملزمان کو سنگین جنسی جرائم کا مرتکب ٹھہراتے ہوئے 8 سے 17 سال تک کی قید کی سزائیں سنائیں۔ تفصیلات درج ذیل ہیں:

نام اور عمر,رہائش گاہ,جرم,سزا
یوسف بھٹی (40),بریڈ فورڈ,8 مرتبہ ریپ,17 سال قید
انور عزیز (36),بریڈ فورڈ,14 مرتبہ ریپ,15 سال قید
فیصل رشید (37),بریڈ فورڈ,10 مرتبہ ریپ,15 سال قید
عمر تاج (39),بیٹلے,12 مرتبہ ریپ,15 سال قید
عبدالباسط (44),بریڈ فورڈ,4 مرتبہ ریپ اور سازش,13.5 سال قید
برہان الدین علی (39),بریڈ فورڈ,4 مرتبہ ریپ,13.5 سال قید
آصف بدھیا (43),بریڈ فورڈ,4 مرتبہ ریپ,13 سال قید
محمد ندیم علی (42),بریڈ فورڈ,4 مرتبہ ریپ,13 سال قید
حنان میاں (40),بریڈ فورڈ,4 مرتبہ ریپ,12 سال قید
اشفاق احمد (38),ہیلی فیکس,2 مرتبہ ریپ,12 سال قید
آفتاب احمد (37),بریڈ فورڈ,3 مرتبہ ریپ,11 سال قید
امجد حسین (39),کیتھلے,5 مرتبہ ریپ,10 سال 5 ماہ قید
محمد یاسر (40),بریڈ فورڈ,ریپ,10 سال قید
شاہین الحق (39),بریڈ فورڈ,ریپ,10 سال قید
جمیل احمد (35),بریڈ فورڈ,4 مرتبہ ریپ,8 سال قید

جج نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ملزمان نے ایک کم عمر لڑکی کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انسانیت سوز جرائم کیے، اور انہیں قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ برطانیہ میں بچوں کے تحفظ اور جنسی جرائم کے خاتمے کے لیے ایک اہم مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

نابالغ 14 سالہ بچی سے 4 سال تک مسلسل جنسی زیادتی کرنیوالے 15 درندوں‌کو 188 سال قید کی عبرتناک سزا“ ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ لکھیں