امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے ردِعمل میں ایران کے اندر موجود عسکری اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے شدید فضائی کارروائیاں شروع کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ سینٹکام نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ امریکی فورسز نے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے درجنوں ٹھکانوں بشمول ملٹری کمانڈ سینٹرز، ڈرون و میزائل تنصیبات، ساحلی و فضائی دفاعی نظام اور بحری اہداف پر بمباری کی ہے۔ یہ کارروائی اردن میں قائم امریکی فوجی اڈے پر ایرانی بالسٹک میزائلوں کے مبینہ حملے اور امریکی فورسز کو درپیش خطرات کے فوری جواب میں انجام دی گئی ہے۔
U.S. forces began launching strikes against Iran at 8 p.m. ET today. The strikes are a powerful response to yesterday's attempted Iranian attacks on U.S. forces based in the Middle East.
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 30, 2026
ایرانی میڈیا اور مقامي حکام کے مطابق ایران کے جنوبی صوبوں بالخصوص خوزستان کے شہر آبادان اور اہواز سمیت قشم جزیرے میں متعدد شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور بعض مقامات پر بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔ خوزستان کے سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے امور کے نائب گورنر نے تصدیق کی کہ کچھ سائٹس کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم فوری طور پر حملوں کی تمام باریکیوں اور جانی و مالی نقصان کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متنبہ کیا تھا کہ امریکی دفاعی نظام نے تمام ایرانی میزائلوں کو ہوا میں ہی تباہ کر دیا تھا اور اب امریکی فورسز ایران کو انتہائی سخت جواب دیں گی۔
امریکی فضائی حملوں اور بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر مکمل جنگ چھڑنے کا شدید خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال اور خطے میں ممکنہ بحران کے پیشِ نظر بین الاقوامی سفارت کار اور ثالثین تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کم کرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ تہم امریکی سینٹکام کے مطابق خطے میں تعينات 50 ہزار سے زائد امریکی اہلکار اعلیٰ الرٹ پر ہیں اور امریکی سرحدوں و مفادات کے تحفظ کے لیے مزید عسکری اقدامات کا سلسلہ جاری رہے گا۔
