
کراچی َ، 15 جون 2026
کراچی میں ہوائی فائرنگ کا عفریت ایک بار پھر معصوم جان نگل گیا۔ کیماڑی کے علاقے جیکسن میں نامعلوم سمت سے آنے والی ہوائی گولی 9 ماہ کی بچی سندس فاطمہ کے سر میں پیوست ہو گئی، جو ہسپتال میں دورانِ علاج دم توڑ گئی۔ اس افسوسناک واقعے نے شہر میں ہوائی فائرنگ کی خطرناک حدوں کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔
واقعہ کی تفصیلات
پولیس کے مطابق واقعہ جیکسن تھانے کی حدود میں واقع تاشقند کالونی، کیماڑی میں پیش آیا۔ مدعی مقدمہ اور بچی کے والد محمد آصف، جو پیشے کے اعتبار سے رکشہ ڈرائیور ہیں، نے بتایا کہ رات کے وقت جب علاقے میں بجلی غائب تھی اور بچے گھر کے صحن میں کھیل رہے تھے، تب ہی نامعلوم سمت سے ایک گولی آ کر 9 ماہ کی سندس فاطمہ کے ماتھے میں لگی۔ بچی کو تشویشناک حالت میں پہلے ضیاء الدین ہسپتال اور بعد ازاں جناح ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گئی۔

مقدمہ کا اندراج اور تفتیش
جیکسن پولیس اسٹیشن نے مقتولہ کے والد کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 202/2026 ‘قتلِ بالسبب’ کی دفعات کے تحت نامعلوم افراد کے خلاف درج کر لیا ہے۔ ایس ایس پی کیماڑی ڈویژن نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے تفتیش سی آئی سی (CIC) انچارج کیماڑی ڈویژن کے سپرد کر دی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گولی چلانے والے عناصر کا سراغ لگانے کے لیے جدید تکنیکی ذرائع اور عینی شاہدین کی مدد لی جا رہی ہے۔
والد کا دہائی، حکومت سے مطالبہ
ننھی سندس کے والد نے صوبائی حکومت اور محکمہ پولیس سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ان کی بیٹی کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کر کے کٹہرے میں لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ رکشہ ڈرائیور ہونے کے ناطے وہ اپنی بیٹی کی المناک موت کے بعد شدید صدمے میں ہیں اور اب انہیں انصاف کے سوا کچھ نہیں چاہیے۔کراچی میں ہوائی فائرنگ کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، بلکہ اس سے قبل بھی درجنوں افراد ایسی ہی اندھی گولیوں کا شکار ہو کر لہولہان ہو چکے ہیں۔ شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں ہوائی فائرنگ کرنے والے عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کو مزید سخت کیا جائے تاکہ مزید کسی گھر کا چراغ نہ بجھے۔
