مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ نقلی چہروں اور ویڈیوز کی نگرانی اب یوٹیوب اسٹوڈیو سے ممکن؛ 18 سال سے زائد عمر کے تمام اہل کریئیٹرز کو رسائی دینے کا فیصلہ
ویب ڈیسک
کیلیفورنیا: آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال اور آن لائن پلیٹ فارمز پر اصلی و نقلی شخصیت کے درمیان فرق مٹ جانے کے خطرے کے پیشِ نظر، دنیا کے سب سے بڑے ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم یوٹیوب (YouTube) نے ایک تاریخی اور بڑا اقدام اٹھایا ہے۔ یوٹیوب نے اپنے جدید “اے آئی ڈیٹیکشن لائکنیس سسٹم” (AI Detection Likeness System) کو اب بڑے پیمانے پر متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت 18 سال سے زائد عمر کے تمام اہل کریئیٹرز کو ایسے طاقتور ڈیجیٹل ٹولز دیے جائیں گے جو ان کی چہرے مہرے یا شناخت کی نقل کرنے والی ویڈیوز کو ٹریک اور بلاک کر سکیں گے۔
ابتدائی طور پر یہ سسٹم یوٹیوب پارٹنر پروگرام (YPP) کے چند مخصوص اور محدود صارفین کے ساتھ ٹیسٹ کیا گیا تھا، تاہم اب اس کے کامیاب تجربے کے بعد اسے تمام اہل کریئیٹرز کے لیے عام کیا جا رہا ہے۔ یوٹیوب اسٹوڈیو (YouTube Studio) کے اندر موجود یہ فیچر پسِ پردہ کام کرتے ہوئے پلیٹ فارم پر اپ لوڈ ہونے والی تمام سنتھیٹک (مصنوعی) اور اے آئی ایڈیٹڈ ویڈیوز کو خودکار طریقے سے اسکین کرتا ہے۔ اگر اسکیننگ کے دوران کسی ویڈیو میں کسی رجسٹرڈ کریئیٹر کے چہرے، تاثرات یا مجموعی شباہت کا غیر قانونی استعمال پایا جائے، تو یہ سسٹم فوری طور پر متعلقہ کریئیٹر کو الرٹ جاری کر دیتا ہے۔
الرٹ موصول ہونے پر کریئیٹرز اس مشتبہ ویڈیو کا جائزہ لے سکتے ہیں اور اگر وہ سمجھیں کہ ان کی شناخت کا غلط استعمال کر کے یوٹیوب کی پرائیویسی پالیسی کی خلاف ورزی کی گئی ہے، تو وہ اسے پلیٹ فارم سے فوری ہٹانے (Take-down) کی درخواست دائر کرنے کے مجاز ہوں گے۔
ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق، یوٹیوب کا یہ اقدام اس لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ موجودہ دور میں ڈیپ فیک (Deepfake) ویڈیوز اتنی حقیقت پسندانہ اور جدید ہو چکی ہیں کہ وہ کسی بھی انسان کے چہرے کے تاثرات، لب و لہجے اور آواز کی ہو بہو نقل کر سکتی ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے نہ صرف نامور کریئیٹرز اور شخصیات کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ رہتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر بڑے پیمانے پر غلط معلومات اور جعلی خبریں پھیلنے کا خطرہ بھی لاحق رہتا ہے۔ یوٹیوب انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس نئے فیچر کا بنیادی مقصد کریئیٹرز کو ان کی ڈیجیٹل شناخت اور تصاویر پر مکمل کنٹرول فراہم کرنا اور ناظرین کو کسی بھی قسم کے دھوکے، ابہام یا کنفیوژن سے محفوظ رکھنا ہے۔