دبئی (امین علی انجم) 29 جون 2026
کینیڈا کے شہر برامپٹن میں مسلم کمیونٹی کی کئی سالہ انتھک محنت، لازوال عزم اور اجتماعی جدوجہد کا حسین ثمر اس وقت سامنے آیا جب وہاں عظیم الشان ’مسجد ابراہیم‘ کا باوقار افتتاح عمل میں لایا گیا۔ یہ شاندار اسلامی مرکز نہ صرف ایک روایتی عبادت گاہ بلکہ کینیڈا میں مقیم مسلمانوں کے لیے تعلیم، تربیت، سماجی خدمت اور کمیونٹی کی فلاح و بہبود کا ایک ہمہ جہت (ملٹی پرپز) گہوارہ بننے جا رہا ہے۔
افتتاحی تقریب انتہائی پُرعزم اور شکرگزاری کے جذبات سے بھرپور تھی، جس میں کینیڈا کے وفاقی وزیر شفقت علی، برامپٹن کے میئر پیٹرک براؤن، کاروباری، سماجی اور مذہبی رہنماؤں سمیت سینکڑوں خواتین، بچوں اور مقامی معززین نے شرکت کی۔ حاضرین ایک ایسے تاریخی منصوبے کی تکمیل کا جشن منا رہے تھے جو کمیونٹی کی برسوں کی قربانیوں اور مالی و عملی تعاون کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
| مسجد ابراہیم برامپٹن کے اہم اعداد و شمار | تفصیلات اور تعمیراتی رقبہ |
| مجموعی رقبہ اور لاگت | 2.1 ایکڑ اراضی، کل تخمینہ $20\text{ Million}$ (14 ملین ڈالر خرچ، 6 ملین درکار)۔ |
| تعمیراتی رقبہ اور منزلیں | تقریباً 83 ہزار مربع فٹ پر پھیلی ہوئی 5 منزلہ عظیم الشان عمارت۔ |
| نمازیوں کی گنجائش | ایک وقت میں 6 ہزار سے زائد نمازیوں کے لیے باجماعت نماز کی سہولت۔ |
| تعلیمی منصوبہ | مسلم بچیوں کے لیے 600 طالبات کی گنجائش کا جدید ہائی اسکول۔ |
مسجد ابراہیم کے چیئرمین انور چٹھہ نے اپنے صدارتی خطاب میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ سنگِ میل کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ پوری کمیونٹی کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے دن رات ایک کرنے والے رضاکاروں بشمول عابد، اشفاق خان، رشید، حسین، شہباز الحق اور دیگر تمام رفقاء کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انور چٹھہ نے برامپٹن کے میئر پیٹرک براؤن اور ان کی انتظامی ٹیم کا خصوصی شکریہ ادا کیا جنہوں نے تعمیراتی منظوریوں اور سرکاری امور میں ہر مرحلے پر مثالی تعاون فراہم کیا۔
تقریب سے سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ لمیٹڈ کے ڈائریکٹر محمد جاوید چوہدری اور کینیڈین وفاقی وزیر شفقت علی نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے انور چٹھہ کی مخلصانہ قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ بڑے منصوبے صرف مالی وسائل سے نہیں بلکہ نیت کے اخلاص سے مکمل ہوتے ہیں اور کینیڈا کی ترقی میں مسلم کمیونٹی کا کردار قابلِ فخر ہے۔ میئر پیٹرک براؤن نے اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ہمیشہ پاکستانی اور مسلم برادری کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ تقریب کے اختتام پر معزز مہمانوں کے لیے پرتکلف ضیافت کا اہتمام کیا گیا اور عالمِ اسلام، پاکستان اور کینیڈا کی خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔

