ایران کا امریکا کو اینٹ کا جواب پتھر سے، آبنائے ہرمز، میزائل پروگرام اور یورینیم پر کسی صورت سمجھوتا نہیں ہوگا، تہران کا دوٹوک اعلان!

کراچی (ویب ڈیسک) 1 جولائی 2026

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور امریکا کے ساتھ پسِ پردہ مذاکرات میں کلیدی اور اہم ترین کردار ادا کرنے والے محمد باقر قالیباف نے عالمی برادری اور واشنگٹن کو سخت ترین لہجے میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کی سب سے بڑی اور اہم ترین تزویراتی (اسٹریٹجک) طاقت ہے اور تہران کسی بھی صورت اس اہم ترین آبی گزرگاہ پر اپنی خودمختاری سے دستبردار نہیں ہوگا۔ ایرانی سرکاری میڈیا کو دیے گئے ایک تہلکہ خیز انٹرویو میں انہوں نے امریکا کے ساتھ حالیہ دنوں میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کا کچا چٹھا کھولتے ہوئے واضح کیا کہ تہران اپنے اصولی مؤقف پر چٹان کی طرح قائم ہے اور دفاعی طاقت پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔

محمد باقر قالیباف نے امریکی بیانیے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں سمندری خدمات کی فیس سے صرف 60 روزہ عارضی استثنا دیا گیا ہے، تاہم وائٹ ہاؤس اس عارضی رعایت کا ہرگز یہ مطلب نہ لے کہ ایران نے اپنے مؤقف میں کسی قسم کی نرمی پیدا کر لی ہے۔ انہوں نے گرجدار لہجے میں کہا کہ آبنائے ہرمز ہماری علاقائی سمندری حدود کا قانونی حصہ ہے، اس لیے امریکا دنیا کو گمراہ کرنے اور یہ تاثر دینے کی کوشش بالکل نہ کرے کہ ایران نے اس بین الاقوامی آبی گزرگاہ کو عسکری رنگ دے دیا ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کو خدا کی عطا کردہ نعمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے انتظامی اور قانونی امور پر ایران اور عمان کے درمیان سو فیصد مکمل اتفاقِ رائے ہو چکا ہے۔

ایرانی اسپیکر نے امریکا کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات کو مشروط کرتے ہوئے واضح کیا کہ واشنگٹن کے ساتھ بات چیت اس وقت تک ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھے گی جب تک مفاہمتی یادداشت کی پانچ بنیادی اور اہم شقوں پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو جاتا۔ ان اہم شقوں میں لبنان میں فوری جنگ بندی، ایرانی تیل کی عالمی مارکیٹ میں بلا روک ٹوک برآمدات کو یقینی بنانا اور مختلف عالمی بینکوں میں پڑے ایران کے اربوں ڈالر کے منجمد اثاثوں کی فوری رہائی شامل ہے۔ قالیباف نے انکشاف کیا کہ ایران، امریکا اور لبنان کے درمیان سمندری و زمینی کشیدگی سے بچاؤ کے لیے ایک مشترکہ رابطہ سیل قائم کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے جس کے لیے تہران اور واشنگٹن نے اپنے آفیشل نمائندے بھی مقرر کر دیے ہیں۔

عالمی پابندیوں کو ہوا میں اڑاتے ہوئے محمد باقر قالیباف نے ایک بڑا دعویٰ کیا کہ ایران پر عائد امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے کے بعد صرف دو ہفتوں سے بھی کم عرصے کے اندر تہران نے 4 کروڑ بیرل سے زائد خام تیل ریکارڈ مدت میں برآمد کیا ہے، جو ہماری مؤثر سفارت کاری اور مضبوط دفاعی طاقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے اپنے انٹرویو کے آخر میں واشگاف اور دوٹوک انداز میں کہا کہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام، ملکی دفاعی صلاحیتیں اور یورینیم افزودگی کا حق کسی بھی صورت امریکی مذاکرات کا حصہ نہیں بن سکتے۔ یورینیم افزودگی ہمارا بین الاقوامی قانونی اور ناقابلِ تنسیخ حق ہے، اگر تمام امریکی اور اقوامِ متحدہ کی پابندیاں ختم نہ ہوئیں تو 60 روزہ مدت میں توسیع کر کے اپنی شرائط منوائیں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں