تہران (ویب ڈیسک) 6 جولائی 2026
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے سلسلے میں دارالحکومت تہران میں ایک تاریخی اور عظیم الشان جنازہ جلوس کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے، جس میں ملک بھر سے آئے لاکھوں سوگواروں کی شرکت متوقع ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، سپریم لیڈر کے قومی پرچم میں لپٹے تابوت کو ایک خصوصی گاڑی کے ذریعے تہران کی مرکزی شاہراہوں سے گزارا جا رہا ہے۔ ان کے ساتھ ان کے اہلِ خانہ کے تابوت بھی موجود ہیں جو رواں سال 28 فروری کو جنگ کے آغاز میں ہونے والے فضائی حملے کے نتیجے میں جاں بحق ہوئے تھے۔
رپورٹس کے مطابق، یہ تاریخی جنازہ جلوس تہران کی مرکزی شاہراہوں سے ہوتا ہوا مہرآباد بین الاقوامی ہوائی اڈے تک جائے گا، جہاں سے میت کو تدفین کے اگلے اور آخری مرحلے کے لیے منتقل کرنے کے انتظامات کیے جائیں گے۔ اس موقع پر ایرانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے دارالحکومت میں غیر معمولی اور فول پروف سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں، جس کے تحت متعدد اہم سڑکیں بند، فضائی حدود پر سخت پابندیاں عائد اور کئی سرکاری و نجی ادارے ملکی سوگ کے باعث بند رکھے گئے ہیں۔
ایرانی حکومت کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، ملک بھر میں سوگ کی یہ تقریبات آئندہ جمعرات تک جاری رہیں گی، جس کے بعد آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو ان کے آبائی شہر مشہد مقدس میں واقع امام رضا علیہ السلام کے مزار کے احاطے میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔ دوسری جانب، بین الاقوامی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین آبنائے ہرمز کی بحالی، تہران کے جوہری پروگرام اور جنگ کے مستقل خاتمے سے متعلق جاری انتہائی اہم سفارتی مذاکرات کو تدفین کی تقریبات مکمل ہونے تک عارضی طور پر مؤخر کر دیا گیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، اس وقت پورے خطے اور عالمی طاقتوں کی نظریں ایران کی اندرونی سیاسی صورت حال پر مرکوز ہیں۔
