کراچی (ویب ڈیسک) 1 جولائی 2026
امریکا اور ایران کے درمیان جاری انتہائی حساس سفارتی رابطوں اور مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے سے متعلق مذاکرات پر چھائے غیر یقینی کے گہرے بادلوں کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اچانک تیزی آگئی ہے، جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں شدید اتار چڑھاؤ اور مندی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ تہران اور واشنگٹن کے درمیان سیاسی تناؤ اور سفارتی ڈیڈ لاک کی وجہ سے دنیا بھر کے بڑے بڑے انویسٹرز اور سرمایہ کاروں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے، اور ان کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا دونوں ممالک کے درمیان بیک ڈور مذاکرات کسی منطقی اور مثبت نتیجے تک پہنچ پاتے ہیں یا خطہ دوبارہ کسی بڑے بحران کا شکار ہو جائے گا۔
بین الاقوامی تجارتی اور اقتصادی اعداد و شمار کے مطابق، عالمی بلین و انرجی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل (Brent Crude) کے فیوچر معاہدوں کی قیمت میں 33 سینٹ یا 0.45 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 73.28 ڈالر فی بیرل کی بلند سطح تک پہنچ گئی۔ اسی طرح، امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کے نرخ بھی 34 سینٹ یا 0.49 فیصد اضافے کے ساتھ 69.84 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتے دیکھے گئے۔ انرجی سیکٹر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سپلائی لائن کے تعطل اور سیاسی بیانات کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتوں پر مسلسل دباؤ بڑھ رہا ہے جس کا اثر ترقی پذیر ممالک پر پڑے گا۔
انٹرنیشنل مارکیٹ کے معروف معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ تزویراتی اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں بحری جہازوں اور آئل ٹینکرز کی آمدورفت بتدریج بحال تو ہو رہی ہے، تاہم خطے کی صورتحال اب بھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آ سکی ہے۔ ان کے مطابق سمندری گزرگاہوں میں تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت تاحال غیر مساوی، غیر متوقع اور انتہائی محدود ہے، جس کی وجہ سے عالمی توانائی کی منڈی میں تیل کی فراہمی میں خلل پڑنے کا مستقل خدشہ موجود ہے۔ انرجی تھنک ٹینک ‘ویندا انسائٹس’ کی بانی وندانا ہری کے مطابق جب تک واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی نئے، پائیدار اور واضح سفارتی فریم ورک پر تحریری اتفاق نہیں ہوتا، سرمایہ کار محتاط رہیں گے اور تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کا کوئی امکان نہیں ہے۔
عالمی تیل منڈی میں اس ہلچل کے باعث ایشیائی مالیاتی اور اسٹاک مارکیٹوں میں بھی مندی اور ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ جاپان کے نکی 225 انڈیکس میں تو معمولی 0.6 فیصد کا عارضی اضافہ ہوا، لیکن آسٹریلیا کے ایس اینڈ پی انڈیکس میں 0.4 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ سب سے بڑا جھٹکا جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس کو لگا جہاں 1.8 فیصد کی نمایاں گراوٹ دیکھی گئی، جبکہ چین کے شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس میں محض 0.1 فیصد کا معمولی اضافہ ہوا۔ ہانگ کانگ کی اسٹاک مارکیٹ سرکاری تعطیل کے باعث بند رہی۔ معاشی مبصرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی کوششوں اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر آئندہ چند روز کی پیش رفت ہی عالمی معیشت کی اگلی سمت کا تعین کرے گی۔
