ابوظبی (ویب ڈیسک) — 14 جولائی 2026
خلیجِ فارس اور بحیرہ عمان کو ملانے والی دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ میں تجارتی جہازوں پر ہولناک میزائل حملوں کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہو گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں قائم بھارتی سفارتخانے نے باقاعدہ بیان جاری کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ان حملوں کا نشانہ بننے والے دو تجارتی بحری جہازوں کے نام ‘البحیہ’ اور ‘مومباسا بی’ تھے۔ اس سنگین بحری حادثے اور عمانی سمندری حدود میں اپنے شہری کی ہلاکت پر نئی دہلی نے سخت سفارتی ردعمل دیتے ہوئے نئی دہلی میں تعینات ایرانی نائب سفیر کو فوری طور پر دفترِ خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
بھارتی سفارتخانے نے اپنے بیان میں ہلاک ہونے والے ملاح کے لواحقین سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ سفارتخانے کے حکام صورتحال کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں اور حملے میں زخمی ہونے والے دیگر افراد اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن سفارتی اور قونصلر امداد فراہم کرنے کے لیے یو اے ای اور عمان کے مقامی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔ سفارتخانے کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات اور پیش رفت پر نظر رکھی جا رہی ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید ہنگامی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
یہ میزائل حملہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے باعث عالمی تجارتی بحری جہازوں کی سلامتی کے حوالے سے شدید خدشات پائے جا رہے ہیں۔ تاحال حملے کی مکمل تفصیلات، ہلاک ہونے والے بھارتی شہری کی شناخت یا دیگر زخمیوں کی حتمی تعداد کے بارے میں سرکاری طور پر مزید معلومات جاری نہیں کی گئیں۔ عالمی بحری صنعت، شپنگ کمپنیاں اور دنیا کے مختلف ممالک تیل کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھی جانے والی اس آبی گزرگاہ میں امن و امان کی خراب ہوتی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ اس کشیدگی سے عالمی تجارتی منڈیوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
