18 ماہ کی ننھی بچی کے المناک کیس نے پورے ملک کو غمزدہ کر دیا ہے۔ آج بچی کی والدہ نے روتے ہوئے اپنی بیٹی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات بیان کیں اور انصاف کی اپیل کی۔
والدہ کے مطابق وہ دوپہر تقریباً تین بجے اپنی ملازمت سے واپس آئیں، جس کے بعد وہ اپنی بیٹی ایزل (Aizal) کو بازار لے گئیں جہاں بچی نے کچھ کھایا۔ اس کے بعد انہیں ایک ضروری کام کے لیے پڑوس جانا پڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس دوران “منان” نامی نوجوان، جو ان کی پھوپھی کا نواسا ہے، گھر آیا۔ والدہ کے مطابق وہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے ان کے گھر آتا جاتا تھا اور بچی کے ساتھ محبت سے پیش آتا تھا، اسی وجہ سے وہ اس پر اعتماد کرتی تھیں۔
والدہ کے مطابق منان معمول کی طرح بچی کو باہر سیر کے لیے لے گیا، لیکن جب وہ اسے واپس لے کر آیا تو بچی اپنی خالہ کے پاس بے ہوش حالت میں تھی۔
انہوں نے بتایا کہ جب وہ گھر واپس پہنچیں تو ان کی بہن نے بتایا کہ ایزل کو قے آ رہی ہے۔ وہ فوری طور پر بچی کو قریبی کلینک لے گئیں، جہاں ڈاکٹر نے ابتدائی طور پر یہ خیال ظاہر کیا کہ شاید باسی دودھ یا کسی خوراک کی وجہ سے طبیعت خراب ہوئی ہے۔ والدہ کے مطابق وہ بچی کو گھر واپس لے آئیں، اسے او آر ایس پلائی، جس کے بعد وہ سو گئی۔
View this post on Instagram
والدہ نے بتایا کہ کچھ دیر بعد جب انہوں نے بچی کا ڈائپر تبدیل کیا تو خون دیکھ کر ان کے ہوش اڑ گئے۔ ان کے مطابق بچی کوئی ردعمل نہیں دے رہی تھی، اس کی سانسیں اور دل کی دھڑکن محسوس نہیں ہو رہی تھی جبکہ ہونٹ بھی سیاہ پڑ چکے تھے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اردگرد موجود لوگوں سے مدد کی اپیل کی تاکہ بچی کو فوری اسپتال پہنچایا جا سکے، مگر کوئی آگے نہ آیا، جس کے بعد وہ خود ہی اپنی بیٹی کو اسپتال لے کر گئیں۔
والدہ نے مزید کہا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ نہیں رہتیں اور اس مشکل گھڑی میں بھی انہیں خاندان کی جانب سے مناسب تعاون نہیں ملا۔ ان کے مطابق ان کی پھوپھی سمیت بعض قریبی رشتہ دار بچی کے جنازے میں بھی شریک نہیں ہوئے۔
والدہ کا کہنا ہے کہ بچی کا پوسٹ مارٹم کیا گیا، جس کے بعد انہیں بتایا گیا کہ اس کے جسم پر شدید نوعیت کی چوٹوں کے آثار تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ڈیڑھ سالہ معصوم بیٹی کے ساتھ انتہائی ظلم ہوا اور وہ صرف انصاف چاہتی ہیں۔
دوسری جانب پولیس نے اس کیس میں ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کیس کے تمام پہلوؤں، فرانزک شواہد اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کی روشنی میں تحقیقات مکمل کی جائیں گی تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
یہ افسوسناک واقعہ سوشل میڈیا پر بھی موضوعِ بحث بنا ہوا ہے، جہاں شہری ننھی بچی کے لیے انصاف اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
نوٹ: اس خبر میں والدہ کے بیانات ان کے اپنے دعووں پر مبنی ہیں۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور حتمی حقائق کا تعین متعلقہ تحقیقاتی اداروں اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
