کراچی میں قتل ہونے والے نوجوان میر رضا علی کیس کی تحقیقات میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق پولیس کی نئی تشکیل کردہ ٹیم نے مقتول کو قرض دینے والے 10 افراد کی باضابطہ فہرست مرتب کر لی ہے، جنہیں اب شاملِ تفتیش کر کے پوچھ گچھ کے لیے طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سامنے آنے والی دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ میر رضا نے متعدد افراد سے کروڑوں روپے کا سنگین مالی قرض لے رکھا تھا، جس کا اس کیس کے محرکات سے براہِ راست تعلق ہو سکتا ہے۔
تفتیشی حکام کو موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق مقتول میر رضا نے مجموعی طور پر 10 سے زائد افراد سے 5 کروڑ روپے سے زائد کا قرضہ لے رکھا تھا۔ حاصل کردہ معاشی کوائف کے مطابق مقتول نے عابد نامی شخص سے 1 کروڑ 75 لاکھ روپے سے زائد کی بڑی رقم جبکہ مونی نامی ایک اور شخص سے 5 لاکھ روپے کا قرض حاصل کیا تھا۔ تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تمام 10 قرض دہندگان کی مکمل فہرست تیار کر لی گئی ہے اور ان کے بیانات قلمبند کر کے کیس کے مالی پہلوؤں کو باریک بینی سے کھنگالا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ 29 جولائی 2026ء کو گلستانِ جوہر سے میر رضا کی لاش برآمد ہوئی تھی اور ابتدائی طور پر اس واقعے کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی تھی۔ تاہم لواحقین کے شدید احتجاج اور طبی شکوک و شبہات کے بعد 8 اگست کو قبر کشائی کر کے 8 رکنی میڈیکل بورڈ نے نئی رپورٹ تیار کی جس میں قتل کی تصدیق ہوئی۔ نئی رپورٹ منظرِ عام پر آنے کے بعد حکومت نے پرانی ٹیم کو ہٹا کر ڈی آئی جی عامر فاروقی کی سربراہی میں نئی تفتیشی ٹیم تشکیل دی ہے، جس میں مقتول کے والدین اور وکیل کی درخواست پر مزید دو ارکان کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
