A sleek visual graphic depicting a cab silhouette and GPS route line representing ride-hailing investigation without text

میر رضا کیس میں آخری سفر کا ڈراپ سین! ٹیکسی ڈرائیور کا سنسنی خیز انکشاف، تمام ریکارڈ سامنے آ گیا

کراچی میں میر رضا علی کے قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں مقتول کو آخری بار لوکیشن پر چھوڑنے والے آن لائن ٹیکسی ڈرائیور احسان اللہ نے پولیس اور میڈیا کے سامنے سفر کی تمام سنسنی خیز تفصیلات رکھ دی ہیں۔ ڈرائیور احسان اللہ کے مطابق میر رضا نے 3 بج کر 57 منٹ پر رائیڈ بک کی اور 4 بج کر 7 منٹ پر لوکیشن پر پہنچ کر انہیں کال کی گئی، جس کے بعد 4 بج کر 9 منٹ پر سفر کا آغاز ہوا۔ ڈرائیور نے بتایا کہ گاڑی خالد بن ولید روڈ سے طارق روڈ اور وہاں سے بہادر آباد کے راستے آگے بڑھی۔

ڈرائیور احسان اللہ نے سفر کے روٹ کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ بہادر آباد سے وہ اسٹیڈیم، ملینیم مال، پرفیوم چوک جوہر موڑ اور وہاں سے موسمیات کی طرف گئے۔ سفر کے دوران میر رضا نے ڈرائیور سے کہا کہ وہ ایپ کی لوکیشن فالو کرنے کے بجائے گاڑی آگے بڑھائے، وہ خود راستہ بتائے گا اور پھر نوجوان کے بتائے ہوئے راستے پر ہی گاڑی چلائی گئی۔ ڈرائیور کے مطابق میر رضا نے گاڑی میں گانے سننا شروع کیے، تیز گاڑی چلانے کی ہدایت کی اور وہ مسلسل اپنا موبائل فون استعمال کر رہا تھا لیکن اس نے کسی کو کال نہیں کی۔

ٹیکسی ڈرائیور نے اہم ترین بات کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے پاس اس مکمل سفر کا تمام ڈیجیٹل اور جی پی ایس ریکارڈ محفوظ موجود ہے۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ جس آخری مقام پر میر رضا کو اتارا گیا، وہاں پہلے سے کوئی بھی شخص موجود نہیں تھا۔ پولیس اور تفتیشی حکام نے ٹیکسی ڈرائیور کا یہ اہم بیان اور رائیڈ کا تمام تر ریکارڈ تحویل میں لے کر تحقیقات کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا ہے تاکہ واقعے کے اصل حقائق کا سراغ لگایا جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں