کاروباری طبقے کے لیے وفاقی حکومت کا بڑا سرپرائز؛ کراچی پورٹ کا مجوزہ ٹیرف اضافہ منجمد، کروڑوں روپے کا تاریخی ریلیف

کراچی (ویب ڈیسک) 18 جون 2026

وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چوہدری نے ملک کی معاشی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی کاروباری برادری اور صنعتکاروں کے لیے ایک بہت بڑے اور تاریخی ریلیف کا اعلان کر دیا ہے۔ وفاقی حکومت کے اس شاندار فیصلے کے تحت کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کی جانب سے مالی سال 2026-27 کے لیے تجویز کردہ 5 فیصد ٹیرف اضافے کو فوری طور پر منجمد (فریز) کر دیا گیا ہے تاکہ تجارتی سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔ اس اہم ترین فیصلے کے بعد بندرگاہوں کے ذریعے ہونے والی ملکی و بین الاقوامی تجارت کو ایک نئی جلا ملے گی اور پچھلے کچھ عرصے سے دباؤ کا شکار برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کو سکھ کا سانس لینے کا موقع میسر آئے گا۔

وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ تفصیلات کے مطابق کراچی پورٹ کا ٹیرف فریز ہونے کی وجہ سے ملک بھر کے امپورٹرز اور ایکسپورٹرز کو مجموعی طور پر 500 ملین (50 کروڑ) روپے سے زائد کا خطیر اور براہِ راست مالی ریلیف ملے گا۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ موجودہ معاشی صورتحال میں تاجر برادری کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے کیا گیا ہے کیونکہ ٹیرف میں اضافہ برآمدات پر لاگت بڑھا دیتا ہے، جس سے عالمی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کا مقابلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اس 5 فیصد مجوزہ اضافے کو روک کر حکومت نے تاجروں کو پیداواری اور کاروباری لاگت مستحکم رکھنے کا ایک نادر موقع فراہم کیا ہے۔

انہوں نے اس پالیسی پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کے خصوصی “بلیو اکانومی وژن” کے تحت ملکی سمندری وسائل کو معیشت کی بہتری کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور کاروباری طبقے کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنا اس وژن کا بنیادی حصہ ہے۔ ٹیرف منجمد کرنے کا بنیادی مقصد تاجروں اور صنعتکاروں کے اخراجات میں واضح کمی لانا اور ملکی کارخانوں کو عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بنانا ہے۔ جنید انوار چوہدری نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت زبانی جمع خرچ کے بجائے برآمدات، سمندری تجارت اور تمام معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے عملی اور ٹھوس اقدامات اٹھانے پر یقین رکھتی ہے اور یہ فیصلہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

وفاقی وزیر بحری امور کا مزید کہنا تھا کہ کے پی ٹی ٹیرف کو فریز کرنے سے نہ صرف بندرگاہی لاگت میں استحکام آئے گا بلکہ ملکی اور بین الاقوامی تجارت کو بھی زبردست فروغ ملے گا جس سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے تاجر برادری کو یقین دلایا کہ حکومت کی کاروبار دوست پالیسیوں کا یہ تسلسل آئندہ بھی برقرار رہے گا اور حکومت تاجروں کو مزید سہولتیں اور مراعات دینے کا پختہ عزم رکھتی ہے۔ کاروباری حلقوں نے بھی وفاقی حکومت اور وزارتِ بحری امور کے اس تاجر دوست فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اور خوش آئند قدم قرار دیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں