محض ایک آئی فون اور 15 ہزار کے لیے سگے باپ کا قتل، جائیداد کے لالچ میں بیٹے نے دوست سے باپ کو گولی مروا دی، ملیر پولیس کا بڑا ایکشن!

کراچی (کرائم رپورٹر) 1 جولائی 2026

صوبائی دارالحکومت کراچی کے ضلع ملیر میں جائیداد کے لالچ اور اندھی ہوس کا ایک ایسا ہولناک اور دلخراش واقعہ سامنے آیا ہے جس نے رشتوں کے تقدس کو پامال کر کے رکھ دیا ہے۔ ملیر کے علاقے میں ایک سفاک بیٹے نے جائیداد پر قبضہ کرنے کی خاطر اپنے ہی قریبی دوست کے ساتھ مل کر اپنے سگے باپ کو بے رحمی سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ سفاک ملزمان نے سنگین ترین جرم کا ارتکاب کرنے کے بعد قانون کی آنکھوں میں دھول جھونکنے اور واردات کو چھپانے کے لیے اسے اسٹریٹ کرائم اور ڈکیتی مزاحمت کا رنگ دینے کی بھی ناکام کوشش کی تھی، تاہم ملیر پولیس نے جدید سائنسی اور پیشہ ورانہ تفتیش کے ذریعے اس اندھے قتل کا ڈراؤنا ڈراپ سین کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، ہولناک واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ایس ایس پی ملیر ڈاکٹر عبدالخالق نے کیس کو حل کرنے کے لیے ایس پی ملیر، ڈی ایس پی سکھن اور ایس ایچ او ابراہیم حیدری پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی خصوصی انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی تھی۔ پولیس ٹیموں نے ٹیکنیکل گراؤنڈز، جیو فینسنگ اور خفیہ معلوماتی نیٹ ورک کی روشنی میں رات دن ایک کر کے کارروائی کی اور واقعے کا معمہ حل کر لیا۔ سنسنی خیز تحقیقات کے دوران یہ روح فرسا انکشاف سامنے آیا کہ مقتول محمد اقبال کا اپنا سگا بیٹا اعجاز ہی اس پورے قتل کا ماسٹر مائنڈ تھا، جو اپنے والد کو راستے سے ہٹا کر جائیداد ہڑپ کرنا چاہتا تھا اور اس نے اس گھناؤنے مقصد کے لیے اپنے جگری دوست شیراز کو باپ کے قتل کی سپاری دی تھی۔

پولیس تفتیش کے دوران گرفتار بیٹے اعجاز نے اعترافِ جرم کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے اپنے دوست شیراز کو والد کے قتل کے عوض محض 15 ہزار روپے نقد اور ایک قیمتی آئی فون (iPhone) دینے کا لالچ اور پیشکش کی تھی۔ ملزم شیراز نے چند ہزار روپے اور موبائل فون کے لالچ میں آ کر اپنے ہی دوست کے بوڑھے والد محمد اقبال کو فائرنگ کر کے بے دردی سے قتل کر دیا۔ ملزمان نے چند روز قبل تھانہ ابراہیم حیدری کی حدود میں واقع لیبر کالونی میں گھر کے اندر گھس کر محمد اقبال پر اندھا دھند گولیاں برسائی تھیں، جس کے نتیجے میں مقتول محمد اقبال شدید زخمی ہوئے اور موقع پر ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے تھے۔

ابراہیم حیدری پولیس نے کامیاب چھاپہ مار کارروائی کے دوران دونوں قریبی دوستوں یعنی مقتول کے بیٹے اعجاز ولد محمد اقبال اور شوٹر شیراز کو دھر لیا ہے۔ گرفتار ملزمان کے قبضے سے قتل میں استعمال ہونے والا آلۂ قتل (پستول مع راؤنڈز)، مقتول کا موبائل فون اور واردات کے دوران استعمال ہونے والی موٹرسائیکل بھی برآمد کر لی گئی ہے۔ واقعے کا باقاعدہ مقدمہ تھانہ ابراہیم حیدری میں ایف آئی آر نمبر 482/26 بجرم دفعہ 302/34 تعزیراتِ پاکستان کے تحت درج کر کے ملزمان کو مزید ریمانڈ اور تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ایس ایس پی ملیر نے اندھے قتل کو ٹریس کرنے پر پولیس ٹیم کو نقد انعامات اور شاباش دی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں