راولپنڈی میں درندگی کی انتہا، قوتِ سماعت و گویائی سے محروم 14 سالہ معصوم لڑکی سے جنسی زیادتی، نصیر آباد پولیس نے وحشی ملزم کو دھر لیا!

راولپنڈی (ویب ڈیسک) 1 جولائی 2026

راولپنڈی کے تھانہ نصیر آباد کی حدود میں انسانیت کو شرما دینے والا ایک انتہائی افسوسناک اور دلخراش واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک سفاک درندے نے قوتِ سماعت (سننے) اور گویائی (بولنے) کی صلاحیت سے محروم محض 14 سالہ معصوم اور بے بس لڑکی کو اپنی حوس کا نشانہ بنا ڈالا۔ اس لرزہ خیز واقعے کے سامنے آتے ہی علاقے میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے، تاہم نصیر آباد پولیس نے مظلوم خاندان کی فریاد پر فوری اور ہنگامی ایکشن لیتے ہوئے درندہ صفت ملزم کو چند ہی گھنٹوں میں گرفتار کر کے لوہے کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، یہ افسوسناک واقعہ تھانہ نصیر آباد کے مقامی علاقے میں پیش آیا، جہاں ایک ملزم نے معصوم لڑکی کی معذوری اور بے بسی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ واقعے کے فوراً بعد متاثرہ لڑکی کی لاچار والدہ نے تھانہ نصیر آباد پہنچ کر پولیس کو تحریری درخواست دی، جس پر پولیس نے بغیر کسی تاخیر کے فوری طور پر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔ مقدمے کے اندراج کے ساتھ ہی پولیس کی خصوصی ٹیموں نے ملزم کے ٹھکانے پر چھاپہ مار کر اسے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا اور تھانے منتقل کر دیا۔

پولیس حکام کے مطابق، قانون کے مطابق کارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے متاثرہ معصوم لڑکی کا سرکاری اسپتال سے تفصیلی میڈیکل چیک اپ اور قانونی میڈیکل پراسیس (Medical Examination) کروا لیا گیا ہے، تاکہ ملزم کے خلاف ٹھوس سائنسی اور ڈی این اے شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معذور بچوں کے ساتھ اس قسم کی درندگی کرنے والے عناصر معاشرے کا ناسور ہیں اور ان کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز خان نے اس شرمناک واقعے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ نصیر آباد پولیس نے متاثرہ خاندان کی درخواست پر فوری ایکشن لیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ زیرِ حراست ملزم کے خلاف تمام ٹھوس ڈیجیٹل اور میڈیکل شواہد کو یکجا کر کے چالان جلد سے جلد عدالت میں پیش کیا جائے گا تاکہ اسے عبرتناک سزا دلوائی جا سکے۔ ایس پی پوٹھوہار کا مزید کہنا تھا کہ خواتین اور معصوم بچوں سے جنسی زیادتی، ہراسمنٹ اور ظلم کے واقعات کسی بھی صورت ناقابلِ برداشت ہیں اور ایسے وحشی ملزمان کو قانون کے شکنجے سے کسی صورت بچنے نہیں دیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں