شنگھائی (ویب ڈیسک) — 16 جولائی 2026
پاکستان نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (مصنوعی ذہانت) کے شعبے میں ایک بڑی عالمی کامیابی حاصل کرتے ہوئے چین کی قیادت میں قائم ہونے والے بین الاقوامی اتحاد “ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کوآپریشن آرگنائزیشن” (WAICO) میں بطور بانی رکن شمولیت کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس تاریخی ٹیکنالوجی معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار آج شنگھائی پہنچ رہے ہیں۔ چین نے یہ عالمی تنظیم گزشتہ سال اے آئی (AI) گورننس اور اس کے اصول و ضوابط کی نگرانی کے لیے تجویز کی تھی، اور نائب وزیراعظم اپنے دو روزہ دورے کے دوران شنگھائی میں جاری “ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کانفرنس” (WAIC 2026) میں بھی خصوصی شرکت کریں گے۔
Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 has departed Islamabad for Shanghai, China, on a two-day visit.
As Pakistan joins the World Artificial Intelligence Cooperation Organization (WAICO) as a Founding Member, the DPM/FM will sign the… pic.twitter.com/bUs8pTNW5j
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) July 16, 2026
دورے کے دوران نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار اپنے چینی ہم منصب اور دیگر اعلیٰ حکام سے اہم دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے، جس میں وہ بنیادی طور پر “گلوبل ساؤتھ” (ترقی پذیر ممالک) کی تکنیکی ترجیحات کو اجاگر کریں گے۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ دنیا بھر میں اے آئی ٹیکنالوجی کی تقسیم کے بڑھتے ہوئے فرق کو ختم کیا جائے اور ترقی پذیر ممالک کے لیے اس جدید ٹیکنالوجی تک منصفانہ رسائی اور استعداد کار میں اضافے کو یقینی بنایا جائے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل مئی 2026ء میں وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے دورہ چین کے دوران اس چینی اقدام کی مکمل حمایت کا عزم ظاہر کیا تھا تاکہ مصنوعی ذہانت کے فوائد سے پوری انسانیت مستفید ہو سکے۔
Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 has departed Islamabad for Shanghai, China, on a two-day visit.
As Pakistan joins the World Artificial Intelligence Cooperation Organization (WAICO) as a Founding Member, the DPM/FM will sign the… pic.twitter.com/bUs8pTNW5j
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) July 16, 2026
سیاسی و سفارتی محاذ سے ہٹ کر یہ کانفرنس جدید ترین چپس اور ہارڈ ویئر کی نمائش کا سب سے بڑا مرکز بنی ہوئی ہے، جہاں چین کی معروف کمپنی ہواوے (Huawei) اپنے بڑے پیمانے کے اے آئی کمپیوٹنگ سسٹم “Atlas 950 SuperPoD” کا باقاعدہ آغاز کرنے جا رہی ہے۔ ہزاروں پروسیسرز پر مشتمل یہ سسٹم امریکی ہارڈ ویئر کمپنیوں (جیسے این ویڈیا) پر انحصار کیے بغیر تیار کیا گیا ہے جو چین کی تکنیکی خود انحصاری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، ‘DeepSeek’ کے جدید ترین V4 ماڈل کو بھی ہواوے کے انھی سسٹمز پر کامیابی سے چلا کر دکھایا گیا ہے۔ اس کانفرنس میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف، تھائی لینڈ کے وزیراعظم انوتن چارن ویراکول اور اے آئی کے عالمی ماہرین یوشوا بینجیو اور رچرڈ سٹون بھی شریک ہو رہے ہیں، جبکہ امریکی کمپنیوں کی غیر موجودگی اس فورم کو بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان تکنیکی برتری کی ایک نئی جیو پولیٹیکل جنگ کے طور پر ظاہر کر رہی ہے۔
