A person using mobile banking application easypaisa and jazzcash on smartphone explaining cooling period limit

کیا موبائل بینکنگ سے بھیجے گئے پیسے اب 2 گھنٹے تک نہیں نکل سکیں گے؟ اسٹیٹ بینک کے “کولنگ پیریڈ” قانون کا سچ!

کراچی (ویب ڈیسک) — 16 جولائی 2026

سوشل میڈیا پر گزشتہ چند روز سے ایک پیغام تیزی سے گردش کر رہا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایزی پیسہ، جاز کیش اور دیگر بینکنگ ایپس کے لیے ایک نیا قانون بنایا ہے جس کے تحت بھیجی گئی رقم وصول کنندہ 2 گھنٹے تک نہ نکال سکے گا اور نہ ہی استعمال کر سکے گا۔ اس خبر نے صارفین اور آن لائن کاروبار کرنے والے افراد میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے کیونکہ روزمرہ کے لین دین میں 2 گھنٹے کی تاخیر کسی بڑے مالیاتی بحران کا سبب بن سکتی ہے۔ تاہم، حقیقت یہ ہے کہ اس وائرل پیغام کو غلط سمجھا گیا ہے اور اسٹیٹ بینک کے اصل قانون کو مکس کر کے پیش کیا جا رہا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اصل قوانین کے مطابق، کولنگ پیریڈ کا اطلاق ہر عام ٹرانزیکشن پر نہیں ہوتا، بلکہ یہ صرف اس وقت لاگو ہوتا ہے جب آپ اپنے اکاؤنٹ میں پہلی بار کسی نئے وصول کنندہ کا اندراج کرتے ہیں۔ جب آپ کسی نئے بندے کا بینک اکاؤنٹ یا موبائل والٹ نمبر اپنی ایپ میں ایڈ کرتے ہیں، تو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر بینک اسے اگلے 2 گھنٹے کے لیے ایک محدود نگرانی میں رکھتا ہے۔ اس دوران یا تو آپ اس نئے ایڈ شدہ اکاؤنٹ پر پیسے نہیں بھیج سکتے، یا پھر بھیجی جانے والی رقم کی حد انتہائی کم ہوتی ہے، تاکہ اگر کسی صارف کا اکاؤنٹ ہیک ہوا ہو تو اسے فوری متبادل کارروائی کا وقت مل سکے۔

اسمارٹ فون کے دور میں ڈیجیٹل فراڈ سے بچنے کے لیے یہ سیکیورٹی فیچر انتہائی کارآمد ہے، لیکن عام اور پہلے سے رجسٹرڈ نمبرز پر ہونے والا لین دین ہمیشہ کی طرح فوری ہی ہوتا ہے، جس پر کوئی وقت کی پابندی لاگو نہیں ہوتی۔ اگر آپ سے غلطی سے کسی نامعلوم نمبر پر پیسے ٹرانسفر ہو جائیں، تو وصول کنندہ اسے فوری نکالنے کا مجاز ہوتا ہے، ایسی صورت میں کسی خودکار واپسی کے بجائے صارف کو فوری طور پر متعلقہ بینک یا کسٹمر کیئر ہیلپ لائن سے رابطہ کر کے مروجہ مینوئل طریقہ کار کے تحت ہی مدد حاصل کرنی ہوتی ہے۔ لہٰذا، سوشل میڈیا پر پھیلنے والی اس افواہ سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ڈیجیٹل ادائیگیاں اب بھی اتنی ہی تیز اور آسان ہیں جتنی پہلے تھیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں